مواہب الرحمٰن — Page 136
مواهب الرحمن ۱۳۶ اردو تر جمه يا فتيان، هي كلمات مبشرة من اے جوانو! آخری بات جو ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں وہ کلمات ہیں جن کی بشارت خدائے رحمن کی الرحمن خاطبني ربي وبشرني طرف سے دی گئی ہے۔میرے رب نے مجھے ببشارة عظمى، وقال" يأتى مخاطب فرمایا اور ایک عظیم الشان بشارت دی اور عليك زمن كمثل زمن موسی فرمایا : تم پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جو موسیٰ إنه كريم، تمشى أمامك کے زمانے کی طرح ہوگا۔وہ کریم ہے تیرے آگے آگے چلتا ہے اور تیری خاطر اس شخص کا دشمن بن وعادى لك من عادى۔جاتا ہے جو تیرے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔خدا تجھے يعصمك الله من العداء ويسطو | دشمنوں سے بچائے گا اور ٹوٹ کر پڑے گا اُس شخص بكل من سطا۔يبدى لك پر جو تجھ پر اچھلا۔خدا ایک کرشمہ قدرت تیرے الرحمن شيئًا بشارة تلقاها لئے ظاہر کرے گا۔یہ خوشخبری ہے جو قدیم سے نبیوں کو ملتی رہی ہے۔خدا کا وعدہ آ گیا اور ایک پیر النبيون۔إن وعد الله أتى، وركل اُس نے زمین پر مارا اور خلل کی اصلاح کی۔پس وركا، فطوبى لمن وجد ورأى۔مبارک ہے وہ جو اُس کو پاوے اور دیکھے۔وہ ایسی قتِلَ خيبةً وزِيدَ هيبة * ثم في يوم حالت میں مارا گیا کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سنا من الأيام، أُريتُ قرطاسا من ربی اور اس کا مارا جانا ایک ہیبت ناک امر تھا۔پھر ایک دن خدائے علیم کی طرف سے مجھے ایک کاغذ دکھایا گیا اور جب میں نے اُس پر نگاہ ڈالی تو میں العلام، وإذا نظرت فوجدت عنوانه بَقِيَّة الطَّاعُون - وعلى نے اس پر بقيّة الطاعون کا عنوان لکھا ہوا پایا ظهره إعلان منى كأني أشعتُ من اور اس کی پشت پر میری طرف سے ایک اعلان رقم یا اس الہام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں کہ : ”وحی الہی صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی نسبت ہوئی تھی جب کہ وہ زندہ تھے بلکہ قادیان میں ہی موجود تھے۔( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۷۵ حاشیہ) (الناشر )