مواہب الرحمٰن — Page 135
مواهب الرحمن ۱۳۵ اردو تر جمه والإقبال عليه بالتضرعات، ولا اور اس کی بارگاہ میں تضرعات کے ساتھ حاضر ہونا نعنى بالحرّ إلا النهوض ہے۔اور حرارت سے ہماری مراد خدمات کے لئے للخدمات، وترك التواني مستعد ہونا ، مستعد ہونا ، سُستی کو ترک کرنا اور کسل کو ایسی ورفض الكسل بحرارة هي من حرارت کے ذریعے چھوڑنا ہے جو خدا خوفی اور خواص الخوف والتقاة، ومن تقویٰ کے خواص نیز رضا جوئی کے وقت صدق وما تلفتم۔أيها الإخوان۔۔إن لوازم الصدق عند ابتغاء کے لوازم میں سے ہے۔اگر تم نے اس سردی کو المرضاة فإن شتوتم فقد نجوتم، وإن اصطفتم فما هلكتم پالیا تو سمجھو کہ تم نجات پاگئے۔اور اگر تم نے وہ گرمی حاصل کر لی تو یقیناً تم ہلاکت اور تلف ہونے متاع التقوى قد بار، وولت سے بچ گئے۔اے بھائیو! بے شک تقوی کی متاع حماته الأدبار، وخرج الإيمان برباد ہو چکی ہے اور اس کے حامی پیٹھ پھیر چکے ہیں من القلوب، وملئت النفوس من اور ایمان دلوں سے نکل گیا ہے اور نفوس گناہوں الذنوب فاسعوا لهذا الأرب سے پُر ہو گئے ہیں۔سوچاہیے کہ اس مقصد اور اس وجلبه، وانطلقوا مُجدِّین فی کے حصول کے لئے پوری کوشش کرو اور اس کی طلبه، لتنجوا من طاعون متطائر طلب میں سنجیدگی کے ساتھ لگ جاؤ تا کہ اُس بشرره، الذي يفرّق بين الأخيار طاعون سے تم نجات پاؤ جس کی چنگاریاں اڑ رہی ۱۰۸ والأشرار۔واعلموا أن الأرض ہیں اور جو نیکوں اور بدوں میں تمیز کر رہا ہے۔جان زلزلت مرتين زلزالا شديدا لو! کہ زمین دو دفعہ پوری طرح سے ہلائی گئی۔پہلی ― الأولى لما ترك ابن مريم مرتبہ اُس وقت جب ابن مریم کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا وحيدا، والثانية حين رُدِدتُ طريدًا فلاتنوموا عند هذه اور دوسری مرتبہ اس وقت جب مجھے دھتکار کر رڈ کر دیا الزلزلة، وتبصروا وتيقظوا گیا پس اس زلزلے کے موقع پر سوئے نہ رہو اور وبادروا إلى ابتغاء مرضاة آنکھیں کھولو اور بیدار ہو جاؤ۔اور حضرت رب العزت الحضرة۔وآخر ما نخبر کم به کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جلدی کرو۔