مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 119

مواهب الرحمن ۱۱۹ اردو تر جمه بھی زیادہ ہو، اور ہم پر کوئی ایسی صبح اور شام نہیں گزرتی والأقيال۔ولا يـأتـي علينا صباح ولا مساء إلا ويـأتـــى بــه أنواع مگر طرح طرح کے نشانات لے کر آتی ہے۔اس کے باوجودان جانوروں کے خیال میں میں نے کوئی الآيات، ثم مع ذالك ما أريتُ نشان نہیں دکھایا۔یقینا اللہ نے سُورۃ الضحیٰ آية في زعم هذه العجماوات ! کے مضمون کو میری ذات میں متحقق فرمایا ہے۔جب میرے والد نے وفات پائی اور (اللہ نے) وإن الله حقق في نفسي سورة الضُّحى إذ توفّى أبى، وقال: " أليس الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ الہام کیا، تو اُس نے اپنے وعدہ کے مطابق میری کفالت فرمائی اور الله بکاف عبده" ، فکفلنی كما وعد پناہ دی۔پھر جب اُس نے مجھے اپنی سب سے مخفی وآوی۔ثم لما ر آنی ضالا مضطرا راہ میں سرگرداں اور بیقرار پایا اور اُس وقت کوئی ایسا شخص نہ تھا جو میری راہنمائی کرتا، تو اُس نے خود إلى سبيله الأخفى، ولم يكن ہی اپنی جناب سے مجھے تعلیم دی اور میری رہنمائی رجل ليهديني۔۔علمنى من لدنه فرمائی۔ازاں بعد جب اُس نے میرے پاس ایک وهدى۔ثم لما جمع عندى فوجا فوج جمع فرما دی اور اس نے مجھے تهیدست پایا تو اس نے مجھ پر انعام فرمایا اور غنی کر دیا۔اور جہاں ووجدنى عائلا أنعم على وأغنى۔بھی میں ہوتا ہوں وہ میرے ساتھ ہے۔اور اگر وهـو مـعـى أينما كنت، ويبارز لی دشمنوں میں سے کوئی میرے ساتھ برسر پیکار ہو تو من بارزنی من العداء ولى عنده وہ میری خاطر اُس سے برسر پیکار ہوتا ہے۔اور سر لا يعلمه غيره لا فی الأرض میرے اس کے ساتھ ایسے راز ہیں کہ جنہیں اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں جانتا، نہ زمین میں اور نہ ہی آسمان میں۔اور جب سے کہ اللہ نے “ الله بکاف عبده في يوم وفاة میرے والد کی وفات کے روز آلیس الله أبي فوالله ما ذُقْتُ عافية وراحة بِكَافٍ عَبْدَہ کا الہام کیا ہے میں اللہ کی قسم کھا ولا في السما۔وإذ قال: "أليس