مواہب الرحمٰن — Page 118
مواهب الرحمن ۱۱۸ اردو تر جمه ابتلاء عند ظهور إمامهم، ليعلم من السماوات، لأنزل إلياس اتارے، تو وہ عیسی سے پہلے الیاس کو ضرورا تارتا، قبل عيسى ولنجي رسوله من اور اپنے رسول (عیسی) کو یہود کی اب تک کی ألسن اليهود ومن سبهم إلى هذه زبان درازیوں اور انہیں بُرا بھلا کہنے سے ضرور نجات دیتا۔حقیقت یہ ہے کہ ہر امت کے امام الأوقات۔والحق إن لكل أمة کے ظہور کے وقت ان کے لیے کوئی نہ کوئی ابتلا مقدرہوتا ہے تا اس طرح اللہ اُن کے معزز لوگوں کو الله كرامهم من لئامهـ ان کے کمینوں سے ممیز کر دے۔اسی طرح جب كذالك لما جاء عیسی ابتلی عیسی آیا تو الیاس کے آسمان سے نازل نہ ہونے اليهود بعدم نزول إلياس من کے باعث یہودیوں پر ابتلا آیا۔اور پھر جب السماء ، ولما جاء سيدنا ہمارے سید و مولی ( محمد ) مصطفی ﷺ تشریف المصطفى قالوا ليس هو من بنى لائے تو ان (یہودیوں) نے کہا کہ آپ إسرائيل فابتلوا بهذا الابتلاء بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں اور وہ اس ابتلا کا شکار ہو گئے۔پھر جب میرے بزرگ و برتر ربّ ا الزمان کی طرف سے اس زمانہ میں مجھے مبعوث کیا گیا تو علماء اسلام نے بعینہ وہی عذر تراشا جو یہودیوں نے عیسی کے انکار کے لیے تراشا تھا۔پس دل لإنكار عيسى۔فالقلوب تشابهت با ہمدگر مشابہ اور واقعات یکساں ہو گئے۔اس لیے والوقائع اتحدت فما نفعتهم کسی نشان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا اور نہ کسی آية، وما أَدْرَتُهم دراية ووالله لو درايت نے انہیں سمجھ دی۔اور اللہ کی قسم اگر وہ تمثلت الآيات النازلة لتصديقى نشانات جو میری تصدیق و تائید میں نازل ہو چکے وتأييدى على صور الرجال ہیں وہ مردوں کی صورت میں متمثل ہو جا ئیں تو اُن لكانت أزيد من أفواج الملوك كى تعداد بادشاہوں اور سر براہانِ مملکت کی افواج سے (۹۵) ثم إنى لمّا بُعثتُ فى من ربي الأعلى نحت علماء الإسلام عذرًا كما نَحَتَ اليهود