مواہب الرحمٰن — Page 106
مواهب الرحمن 1۔4 اردو تر جمه وأنكره من أنكروه وقالوا كقول لوگوں نے آنحضور ﷺ کا انکار کرنا تھا انہوں السابقين، أخذهم الله بذنوبهم بما كانوا مكذبين۔وإن الجُرم نے انکار کر دیا اور انہوں نے وہی بات کی، جو پہلوں نے کی تھی (تب) اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑا کیونکہ وہ مکذب تھے اور لا يكون جُرما إلا بعد إتمام اتمام حجت کے بعد ہی کوئی جرم، جرم قرار پاتا (۸۵) الحجة، فالذين ما وجدوا زمن ہے۔اس لیے جن لوگوں نے مُرسل کے زمانہ کو نہ مرسل وخلوا قبل بعثه فى الغفلة پایا ہو اور وہ اُس (مُرسل) کی بعثت سے قبل أولئك لا يأخذهم الله بما لم بحالت غفلت فوت ہو چکے ہوں، ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرتا کیونکہ نہ تو انہوں نے انکار کیا اور نہ ہی انہیں دعوت پہنچی۔پس اللہ اپنی رحمت ينكروا ولم تبلغهم دعوة، فيغفر لهم من الرحمة۔أكان للناس سے ان کی مغفرت فرما دیتا ہے۔کیا لوگ اس بات عجب أن جاء هم منذر في هذا پر تعجب کرتے ہیں کہ اُن کے پاس اس زمانہ میں الزمان يا حسرة عليهم ! كيف ڈرانے والا آیا ہے۔وائے حسرت ان پر کہ انہوں نسوا سنن الله مع أنهم يقرؤون نے کس طرح اللہ کی سنتوں کو بھلا دیا جبکہ وہ القرآن وقد جرت سنة الله فی قرآن پڑھتے ہیں۔اور اللہ کی اپنے بندوں کے عباده أنهم إذا أسرفوا وجاوزوا ليے يہ سنت جار یہ ہے کہ جب بھی وہ حد سے گزرے اور انہوں نے تقویٰ کی حدود سے تجاوز حدود الاتقاء ، أقام فيهم رسولا لینهاهم عن المنكرات کیا ، تو اللہ نے ان میں رسول مبعوث کیا تا کہ وہ ان کو بدیوں اور بے حیائیوں سے روکے۔اور یکا والفحشاء۔وإذا جاء هم نذیر هم جب بھی ان کے پاس ان کا نذیر آیا تو یکا یک فإذا هم أحزاب ثلاثة حزب وہ تین گروہوں میں بٹ گئے۔ایک گروہ اس کو يعرفونه بميسمه ونُطقه كما اُس کے چہرے اور اُس کی گفتار سے بالکل اسی