مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 106

مواهب الرحمن ١٠٦ اردو ترجمہ صلى الله عليه کرنا تھا انہوں وأنكره من أنكروه وقالوا كقول لوگوں نے آنحضور ﷺ کا انکار کرنا السابقين، أخذهم الله بذنوبهم بما كانوا مكذبين ۔ وإن الجُرم لهم من الرحمة ۔ أكان للناس نے انکار کر دیا اور انہوں نے وہی بات کی، جو پہلوں نے کی تھی (تب) اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑا کیونکہ وہ مکذب تھے اور لا يكون جُرما إلا بعد إتمام اتمام حجت کے بعد ہی کوئی جرم ، جرم قرار پاتا ۸۵ الحجة، فالذين ما وجدوا زمن ہے۔ اس لیے جن لوگوں نے مرسل کے زمانہ کو نہ مرسل وخلوا قبل بعثه في الغفلة پایا ہو اور وہ اُس (مُرسل) کی بعثت سے قبل أولئك لا يأخذهم الله بما لم بحالت غفلت فوت ہو چکے ہوں، ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرتا کیونکہ نہ تو انہوں نے انکار ينكروا ولم تبلغهم دعوة، فيغفر کیا اور نہ ہی انہیں دعوت پہنچی ۔ پس اللہ اپنی رحمت سے ان کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ کیا لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اُن کے پاس اس زمانہ میں الزمان يا حسرة عليهم ! كيف ڈرانے والا آیا ہے۔ وائے حسرت ان پر کہ انہوں نسوا سنن الله مع أنهم يقرؤون نے کس طرح اللہ کی سنتوں کو بھلا دیا جبکہ وہ القرآن وقد جرت سنة الله فی قرآن پڑھتے ہیں۔ اور اللہ کی اپنے بندوں کے عباده أنهم إذا أسرفوا وجاوزوا لیے یہ سنت جاریہ ہے کہ جب بھی وہ حد سے گزرے اور انہوں نے تقوی کی حدود سے تجاوز عجب أن جاء هم منذر في هذا حدود الاتقاء ، أقام فيهم رسولا لينهاهم عن المنكرات کیا، تو اللہ نے ان میں رسول مبعوث کیا تا کہ وہ ان کو بدیوں اور بے حیائیوں سے روکے۔ اور والفحشاء ۔ وإذا جاء هم نذیر هم جب بھی ان کے پاس ان کے پاس ان کا نذیر آیا تو یکا یک فإذا هم أحزاب ثلاثة حزب وہ تین گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ اس کو يعرفونه بميسمه ونطقه كما اُس کے چہرے اور اُس کی گفتار سے بالکل اسی