مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 77
77 پانچویں فصل بالشویکی روس کے گہرے اثرات اقبال پر اقبال بالشویکی روس کے عمر بھر والا وشیدا بنے رہے چنانچہ روس کو الہامی عظمت کا مہبط قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: بلشویک روس روش قضائے الہی کی ہے عجیب و غریب خبر نہیں کہ ضمیر جہاں میں ہے کیا بات! ہوئے ہیں کسر چلیبیا کے واسطے مامور وہی کہ حفظ چلیا جو جانتے تھے نجات ! وحی دھریت روس پر ہوئی نازل کہ توڑ ڈال کلیسائیوں کے لات و منات! جناب عتیق صدیقی صاحب اپنی تحقیق و تشخص میں اس نتیجہ پر پہنچے کہ :- ”برطانوی ہند میں اقبال جس مسلم ہند کا قیام چاہتے تھے ، وہ پاکستان کے تصور سے بالکل مختلف تھا۔زندگی کے آخری چند برسوں میں اقبال کے سیاسی افکار میں ایک اہم انقلاب رونما ہوا۔سوشلزم اور سوویٹ یونین سے انہیں اس حد تک دلچپسی ہو گئی تھی کہ لوگوں نے ان کے لئے اسلامی سوشلٹ کی اصطلاح وضع کر ڈالی۔اقبال کی شاعری نیز دوسرے مآخذ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عصر حاضر کے انسان کے معاشی مسائل صرف سوشلزم ہی سے حل ہو سکتے ہیں اور سوشلزم کو وہ مین سمجھتے تھے۔اُن کی خواہش تھی کہ ہندوستان میں سوشلسٹ پارٹی کا قیام ایک مستقل سیاسی پارٹی کی حیثیت سے عمل میں آئے اور جب ایسا نہیں ہو سکا تو اس کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا 1 سر اقبال اپنے دل میں اشتراکی روس اور سٹالین سے جو بے پناہ محبت پوشیدہ رکھے ہوئے تھے انہوں نے اس کا راز خود ہی افشاء کر دیا۔چنانچہ انہوں نے 28 ستمبر 1922ء کو اپنے احمدی برادر اکبر ، اسلام