مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 75
75 حضرت مولانا ظہور حسین صاحب نے قید و بند میں بھی قیامت خیز مشکلات کے باوجو د پیغام حق پہنچانے کا فریضہ جاری رکھا اور چالیس کے قریب قیدیوں کو احمدی کر کے روس میں حقیقی اسلام کا پودا لگا دیا۔روسی حکام نے پونے دو سال کے بعد آپ کو ایران کی بندر گاہ بنزلی پر چھوڑ دیا جہاں سے آپ تہران، بغداد ، بصرہ اور کراچی سے ہوتے ہوئے 25 اکتوبر 1926ء کی صبح قادیان پہنچ گئے۔لاہور کے مشہور ” اخبار کشمیری“ نے 21 اکتوبر 1926ء کو ایک احمدی کا قابل تقلید نمونہ کے زیر عنوان لکھا۔دسمبر کے مہینہ میں جبکہ راستہ برف سے سفید ہو رہا تھا، راستے میں روسیوں کے ہاتھ پڑ گئے۔جہاں آپ پر مختلف مظالم توڑے گئے۔تاریک کمروں میں رکھا گیا۔کئی کئی دن سور کا گوشت کھانے کے لیے اُن کے سامنے رکھا گیا لیکن وہ سر فروش عقیدت جادہ استقلال پر برابر قائم رہا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو شخص قید خانہ میں انہیں دیکھنے آیا، ان کی تعلیمات کی بدولت احمدی ہوئے بغیر باہر نہ نکلا۔اس طرح تقریباً چالیس اشخاص احمدی ہو گئے۔جو باتیں آج مولوی ظہور حسین سے جیل کے اندر اور جیل سے باہر ظہور میں آئی ہیں، قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں اشاعت مذہب کے لیے ایسی ہی تڑپ ہوا کرتی تھی۔دین اشتراکیت کا بین الا قوامی تفریحی کلب 16 بابیت و بہائیت، اشتراکیت کا صرف ہر اول دستہ ہی نہیں بلکہ اسکا عالمی تفریحی کلب بھی ہے جس کا 17" ماٹو ہے ”عاشر و امع الاديان كلها بالروح والريحان اس عربی ماٹو کا اردو ترجمہ ایک بہائی اہل قلم ابو العباس رضوی کے الفاظ میں یہ ہے کہ ”سب اہل مذاہب کے ساتھ مل جل کر ہنسی خوشی سے زندگی بسر کرو“ اس نصب العین کی روشنی میں اس کلب کی حسب ذیل 9 بنیادی خصوصیات ہیں۔اول۔ہر مذہب و ملت کے لوگوں سے شادی بیاہ کے تعلقات کی کھلی چھٹی ہے۔بہائی رسم ورواج کے قائل نہیں۔ان کا نکاح پادری بھی پڑھ سکتا ہے۔دوم۔جنسی تعلقات کے بعد غسل واجب نہیں۔سوم۔اگر کوئی بہائی 9ماہ تک سفر میں رہے تو اس کی بیوی نیا شوہر کر سکتی ہے۔چہارم۔تین طلاقوں کے بعد بھی رجوع جائز ہے۔