مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 33
33 بانی آریہ سماج اور با بیت جناب بشیر احمد صاحب نے اپنی کتاب ”بہائیت“ کے صفحہ 131-132 میں لکھا ہے۔’1872ء کے لگ بھگ بہاء اللہ نے جمال آفندی بہائی کو اپنا سفیر بنا کر ہندوستان روانہ کیا۔اس نے ہندوستان اور پنجاب کے بعض علاقوں کا دورہ کیا۔گوالیار کے مشہور آریہ سماجی رہنما نتھو لال گپتا نے انکشاف کیا ہے کہ آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند نے جمالی آفندی سے طویل ملاقاتیں کیں۔تین ملاقاتوں کے بعد اُس نے اپنے اصول وضع کئے اور آریہ سماج تحریک کی بنیاد رکھی۔سوامی دیانند کی رسوائے زمانہ کتاب ستیارتھ پر کاش میں تمام بڑے مذہب خصوصاً اسلام کے خلاف لایعنی باتیں درج ہیں۔نتھولال آریہ سماجی ہونے کے ساتھ ساتھ بہائیوں کا مبلغ بھی تھا۔اُس نے 1977ء میں وفات پائی۔بہائیوں کا ایک اہم مجلہ ”دی بہائی“ ورلڈ 9-1976 نتھولال کی وفات پر لکھے گئے اپنے نوٹ میں ان امور کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جمال آفندی کی بمبئی میں سوامی دیانند سے ملاقات اور پھر آریہ سماجی تحریک کا آغاز ایک اچھوتا مضمون ہے جو مستقبل کے بہائی دانشوروں کو اس عنوان سے مزید تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔27 جمال آفندی کے بعد کئی بہائی ہندوستان آتے رہے۔اقبال اور بابیت اقبال کے پیغمبر اشتراکیت مزدک تحریک کا احیاء دور حاضر میں مسلح بابیت کی شکل میں ظاہر ہوا جس کی دہشت گرد سکیم عراق کے شہر کوفہ میں بنائی گئی اور اس کا خروج خراسان کی سر زمین بدشت سے ہوا۔خراسان وہی علاقہ ہے جس کی نسبت آنحضرت خاتم الانبیاء صلی ایلیم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔الدجال يخرج من ارض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه اقوام كان وجوههم المجان المطرقه“ دجال ارض مشرق سے جسے خراسان کہا جاتا ہے ظاہر ہو گا۔اس کی پیروی وہ اقوام کریں گی جن کے چہرے ایسی ڈھالوں کی مانند ہونگی جن پر ہتھوڑے مارے گئے ہیں۔28 اس پیشگوئی اور تاریخی حقیقت کے پیش نظر سر اقبال کا یہ پراسرار شعر ملاحظہ ہو۔