مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 306
306 انتیسویں فصل حضرت مسیح موعود اور آپ کے ہم عصر مغرب کے دہر یہ فلاسفر اسلام نے چودہ سو سال قبل جس خدا کا تصور پیش کیا ہے سورۃ فاتحہ میں اس کی پہلی صفت رب العالمین بتائی گئی جس کی تفسیر حضرت بانی احمدیت مسیح موعود نے درج ذیل الفاظ میں فرمائی ہے۔” اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے۔“ نیز فرمایا: رب العالمین کیسا جامع کلمہ ہے۔اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی۔2 اسلامی نقطہ نگاہ سے خدا تعالیٰ رب العالمین بھی ہے اور مالک یوم الدین بھی جس کے لطیف 3" معنی حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں یہ ہیں کہ :- ” وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اس کا کوئی کار پر داز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو ، وہی کار پر داز سب کچھ جزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔“ غذا کا مسئلہ کوئی دوسو سال سے مختلف ممالک کے ماہرین معاشیات کے زیر بحث آرہا ہے۔مگر قرآن مجید نے اپنا یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ خواہ کیسے ہی انقلابات آئیں اور انسانی آبادی کس قدر بڑھ جائے اللہ تعالیٰ اس زمین سے اس کی ضروریات کے دائمی سامان کر تا رہے گا۔چنانچہ فرمایا: وَ جَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بَرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا (لحم السجدة: 11) (ترجمہ) اس نے زمین پر پہاڑ بنائے ہیں اور اس میں بڑی برکت رکھی ہے اور اس میں رہنے والوں کے کھانے پینے کے لئے ہر چیز کو اندازہ کے مطابق بنادیا ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: ” اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ایک زمانہ میں زمین کو پوری غذا پیدا کرنے