مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 302
اٹھا ئیسویں فصل 302 بھٹو اور مفتی محمود سوشلزم کے سفیر 7 ستمبر 1974ء کا فیصلہ بھٹو اور مفتی محمود کی ساز باز سے ہوا جو عالمی سوشلزم کے پر جوش نمائندے اور سر سے لیکر پاؤں تک سوشلسٹ تھے۔چنانچہ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی نئی پیپلز پارٹی کی تشکیل سے قبل بر ملا اعلان کر دیا تھا کہ میری پارٹی سوشلزم کے اصولوں کو اپنائے گی۔1 جہاں تک مفتی محمود کی دیو بندی پارٹی ”جمعیتہ علمائے اسلام “ کا تعلق ہے ، صاحبزادہ فاروق علی صاحب سابق چیئر مین رہبر کمیٹی و سپیکر نیشنل اسمبلی کا بیان ہے کہ 1970ء2 الیکشن میں میرے مقابل جمعیۃ علماء اسلام کے مفتی عبد اللہ دستبردار ہو گئے کہ ” پیپلز پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔“3 پھر کہتے ہیں :- یوں تو جمعیت اور پارٹی کے درمیان دوستانہ مراسم پہلے ہی موجود تھے جمعیت بھی سرمایہ داری کے خلاف تھی لیکن دونوں پارٹیوں کے در میان با قاعدہ اتحاد کا آغاز لاہور میں قرآن سوزی کے واقعہ کے بعد ہوا۔جمعیت نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ حرکت سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے ایجنٹوں کی ہے۔اگر چہ ہمارے مابین چند مشترکہ قدریں موجود تھیں اور ہم ایک دوسرے کے قریب تھے مگر اس واقعہ کے بعد جمعیت نے جو سچا موقف اختیار کیا اس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ہم کسی مذہبی تنظیم سے اتحاد کرنا چاہیں تو صرف جمعیۃ ہی ایسی تنظیم ہے جس سے اتحاد کیا جاسکتا ہے۔مزید بر آس حالات نے ہمیں یہ بھی باور کر ادیا کہ اگر جمعیتہ سے اتحاد نہیں کریں گے تو سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے ایجنٹ ہمیں کافر قرار دے کر اپنی سیاسی دکان چمکائیں گے۔۔۔۔بھٹو نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر کسی دینی جماعت سے اتحاد کرنا ہے تو جمعیۃ علمائے اسلام کو ترجیح دی جائے۔کیونکہ اس جماعت کی جڑیں عوام میں ہیں اور یہ جماعت اپنے کردار اور روایات کے حوالے سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف ہے۔۔۔۔علاوہ ازیں یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکی تھی کہ ہم لوگ جمعیت کے مذہبی نظریات سے قریب ہیں اور جمعیت ہمارے سیاسی نظریات سے قریب ہے۔کیونکہ اس سے قبل 1968ء میں جب بعض مذہبی حلقوں نے ترقی پسندوں کے خلاف کفر کا