مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 286 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 286

286 چھبیسویں فصل 1973ء کا آئین اور کانگرسی ملاوں کا شب خون ستوط ڈھاکہ کے قومی المیہ پر ہر محب وطن پاکستانی خون کے آنسورور ہا تھا مگر احرار بچے کھچے ملک میں بھی فتنہ فساد پھیلانے کی سکیمیں تیار کرنے میں لگ گئے۔خصوصاً اس لئے کہ 1953ء کی احراری ایجی ٹیشن کے خلاف مشرقی پاکستان نے وسیع پیمانہ پر مخالفت کی تھی اور اس کے ممبران اسمبلی، محترم سیاسی و سماجی شخصیات اور بنگالی پریس نے احراری مطالبہ کو پیوند خاک کر دیا تھا۔لیکن ان کی انڈر گراؤنڈ سازشوں اور منصوبوں سے یہ مشرقی بازو پاکستان سے کٹ کر ہندوستان کی جھولی میں جاچکا تھا اور مغربی پاکستان اسمبلی سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دلوا کر بقیہ ملک کو تباہی کے دہانے تک پہنچانا اب زیادہ مشکل نہ رہا تھا۔چنانچہ ادھر مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان نے ہتھیار ڈالے اُدھر ان سنگ دلوں نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے جماعت احمدیہ کے خلاف وسیع پیمانے پر پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔اسی اثناء میں پاکستان کی برسر اقتدار پیپلز پارٹی نے 2 فروری 1973ء کو ملک کا نیا آئینی مسودہ پیش کر دیا۔احرار نے جو قائد اعظم اور آپ کے تصور آئین کے ازلی دشمن تھے اور اسی موقع کی تاک میں بیٹھے تھے ، خم ٹھونک کر میدان مخالفت میں آگئے اور اپوزیشن کے تمام ممبروں سے جو سبھی مخالف احمدیت تھے ، دیکھتے ہی دیکھتے کمال چالا کی اور عیاری و مکاری سے گٹھ جوڑ کر لیا۔اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کے دیوبندی ممبر مولوی مفتی محمود نے نمایاں رول ادا کیا۔یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا کہ ”ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں “1 اخبار ”نوائے وقت“ 30 جنوری 1986 صفحہ 11) کے رپورٹر کے مطابق ان کے الفاظ یہ تھے کہ ”خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔“ مفتی صاحب کے بیٹے اور سیاسی جانشین مولوی فضل الرحمن صاحب نے اپنی پاکستان دشمنی میں اپنے باپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ایک قدم اور آگے بڑھا کر یہاں تک گوہر افشانی کر چکے ہیں: ”جہاں تک پاکستان کی اساسیت کا سوال ہے تو یہ فراڈ اعظم تھا جو اسلام کے نام پر کھیلا گیا۔پاکستان کا وجود اسلام کے لئے قطعا نہ تھا بلکہ مغربی سیاست کو بچانے کے لئے اس کے غلط ہاتھوں کے ذریعہ وجود میں لایا گیا۔یہ سب فراڈ اسلام کے نام پر کھیلا گیا۔“2