مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 276 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 276

276 تئیسویں فصل ایک ممتاز برطانوی افسر کا انکشاف برٹش انڈیا کے ایک ممتاز برطانوی افسر سر جارج منظم (Sir George Cunningham) کی مطبوعہ ڈائری مورخہ 21 ستمبر 1947ء سے یہ انکشاف منظر عام پر آچکا ہے کہ 1945ء میں پنڈت جو اہر لال نہر وصاحب نے جنرل سر فرینک میسروی کو بتا دیا تھا کہ ہمارا اصل منصوبہ یہ ہے کہ وہ جناح ( قائد اعظم) کو ان کا پاکستان بالآخر دے دیں گے۔پھر بتدریج پاکستان کے معاشی اور دوسرے ذرائع سے ایسے حالات پیدا کر دیں گے جن میں پاکستان کا قائم رہنا بالکل ناممکن ہو جائے گا۔اس وقت پاکستان کا مطالبہ کرنے والوں کو جھک کر ہمارے سامنے آنا ہو گا اور یہ درخواست کرنا ہو گی کہ ہمیں دوبارہ ہندوستان میں شامل ہونے کی اجازت عطا فرمائی جائے۔1 اسی منصوبہ کی روشنی میں آل انڈیا کانگرس کمیٹی نے وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سکیم 3 جون 1947ء کی توثیق کرتے ہوئے حسب ذیل قرار داد منظور کی کہ جغرافیائی حالات نے ، پہاڑوں نے اور سمندروں نے ہندوستان کو ویساہی بنایا ہے جیسا کہ وہ اس وقت ہے اور کوئی انسانی طاقت نہ تو اس صورت و ہیئت کو تبدیل کر سکتی ہے اور نہ ہی اس آخری صورت کے راستے میں روکاوٹ بن سکتی ہے۔آل انڈیا کانگرس کمیٹی اس بات پر پورا پورا یقین رکھتی ہے کہ موجودہ جذباتی شدت میں کمی آجائے گی تو ہندوستان کا مسئلہ اس حقیقی تناظر میں دیکھا جائے گا اور دو قوموں کے مصنوعی نظریئے کو تمام لوگ ساقط اور ترک کر دیں گے۔“2 بر صغیر کی تاریخ سے ثابت ہے کہ نہر و حکومت نے پہلے روز ہی سے اس سازش پر کام کرنا شروع کر دیا۔جس کا مستند دستاویزی ثبوت یہ ہے کہ قیام پاکستان پر ابھی صرف ڈیڑھ ماہ ہوئے تھے کہ فیلڈ مارشل آکنلک (Auchinleck) نے لنڈن میں اپنے افسران بالا کو ایک خفیہ پیغام میں لکھا کہ ” اس امر کی تصدیق میں میرے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ انڈین کا بینہ اپنی ہر ممکن کوشش اور طاقت کے ذریعہ پاکستان کی مملکت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہونے سے روکنے کا مصمم ارادہ کر چکی ہے۔میری اس رائے سے میرے تمام سینئر افسر بھی متفق ہیں بلکہ اس کی تائید ہر وہ ذمہ دار برٹش افسر کر رہا ہے جو حالات سے ذرا بھی آگاہ ہے۔“3