مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 194
194 ہوتے اور اگر زیادہ لوگوں کو اس پر اعتقاد بھی ہو تا تو بھی حقیقت سے دوچار ہونے کے بعد اس کا خاتمہ ہو جاتا۔“11 پنڈت جی پکے اشتراکی اور سوشلسٹ ہونے کے علاوہ مذہب اسلام کے سخت خلاف تھے چنانچہ مزید لکھتے ہیں۔”میں نے اسلامی تمدن کا مطلب سمجھنے کی بڑی کوشش کی لیکن میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں اس میں کامیاب نہیں ہوا۔۔۔۔ہاں مسلم قوم اور مسلم تمدن کیا ہو گا؟ کیا یہ آئندہ صرف شمالی ہند میں سرکار دولتمدار برطانیہ کے زیر سایہ پھلے پھولے 12" یہ تھی وہ فضا جس میں گول میز کانفرنس کا اختتام ہوا جس کے بعد کانگرسی لیڈروں کی سب امیدوں پر پانی پھر گیا کیونکہ کانفرنس کی بحث و تمحیص کی روشنی میں وزیر اعظم برطانیہ نے کمیونل ایوارڈ(Communal Award) شائع کر دیا اور پھر ملک میں انڈیا ایکٹ 1935ء کے نفاذ کی تیاریاں زور وشور سے شروع ہو گئیں۔یہاں بھارت کے مشہور مورخ جناب کے۔آر بمبوال ایم اے (K۔R۔Bombwall) کے قلم سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس، برطانوی حکومت کے قرطاس ابیض اور انڈیا ایکٹ کے نفاذ کا اجمالی ذکر مناسب ہو گا۔فرماتے ہیں: Third Round Table Conference: The last and truncated session of the Round Table of the Conference opened in November, 1932, and concluded a few days before the year closed۔The Labour party had withdrawn its co-operation from the Conference۔As a result, its last session was held under the complete domination of reactionary elements and India was represented by ultra concerned was loyalistsonly۔The Conference with reaffirming the decisions already arrived at in regard to the outlines of the new constitution and filling in some of the details۔