مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 92 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 92

92 by the Bengal Government, there were only 92 Muslims, 711 Hindus and 1,338 Europeans۔This state of affairs continued up to the 1870's۔It was then that a change took place in the attitude of the British Government towards the Muslims۔Sir William Hunter's book entitled " The Indian Mussalmans" which was published in 1871, marks the beginning of the change۔It was contended that the Muslims were too weak for rebellion۔"It was expedient now to take them into alliance rather than continue to antagonise them"۔14 مورخ پاکستان جناب پر وفیسر احمد سعید صاحب نے اپنی مشہور و معروف تالیف ”حصول پاکستان“ (صفحہ 66 تا 70) میں تقسیم بنگال کے خلاف ہندوؤں کی ایجی ٹیشن اور مسلمانوں کے رد عمل کا بڑی شرح وبسط سے تجزیہ کیا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔لارڈ کرزن کے دورِ حکومت میں بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔جس کی بناء پر اس کی سخت مخالفت کی گئی۔اگرچہ بنگال کی تقسیم 1905ء میں عمل میں آئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کا سوال کرزن کے زمانے کی پیداوار نہیں بلکہ یہ مسئلہ 1853 ء سے چلا آتا تھا۔اس سال سر چارلس گرانٹ نے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی۔1854ء میں لارڈ ڈلہوزی نے بنگال کے لیفٹیننٹ گورنر پر بے حد انتظامی بوجھ کی شکایت کی۔1866ء میں اڑیسہ میں رونما ہونے والے قحط کے اسباب معلوم کرنے والی کمیٹی نے بھی اس بے حد وسیع و عریض صوبے کی حدود کا از سر نو تعین کرنے کی سفارش کی۔1872ء میں لیفٹیننٹ گورنر بنگال سر جارج کیمپبل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایک شخص صوبہ بنگال کے انتظامات کو احسن طریقے سے سر انجام نہیں دے سکتا۔15 تقسیم کی وجوھات 1903 میں ہندوستان کے اس سب سے وسیع و عریض صوبہ جس کی آبادی سات کروڑ اسی لاکھ اور رقبہ 189000 مربع میل تھا، کا انتظام صرف ایک لیفٹیننٹ گورنر چلاتا تھا۔ظاہر ہے اس کے لئے انتظامات کا احسن طریق پر چلانا ممکن نہیں تھا۔اس کی مصروفیتوں کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی پانچ سالہ مدت ملازمت میں ڈھا کہ اور چٹا کانگ جیسے اہم علاقوں کا دورہ صرف ایک ہی مرتبہ