مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 74
74 انقلاب ایک ایسی چنگاری ہے جو ہر طرف بھڑک اٹھے گا۔لینن کے مطابق یہ ایسا انقلاب تھا جس کا اثر مستقبل میں چاروں اطراف ہو گا۔11 انگریز مورخ ایچ جی ویلز H۔G Wales کے نزدیک روسی انقلاب ظہور اسلام کے بعد تاریخ عالم کا سب سے بڑ اواقعہ ہے۔12 بالشویکی حکومت کی روسی مسلمانوں کے خلاف تباہ کن پالیسی ”روسی انقلاب کا اعلان “ ایک بنیادی دستاویز تھی جس پر بالشویکی روس کے پہلے حکمران لینن نے دستخط کئے اور تسلیم کیا کہ روسی مسلمانوں کو ملک کے دوسرے باشندوں کی طرح مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔13 سٹالن نے اس حق خود اختیاری کی تشریح درج ذیل الفاظ میں کی۔تمام ملکوں کی سوشل جمہوریت، عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتی ہے۔کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی قوم کی درس گاہوں اور قوانین کو تباہ کرنے اور اس کے رسم ورواج اور عادات و روایات کو مٹانے کے لیے اسکی زندگی میں مداخلت کرے۔“14 لیکن اس کے بر عکس بالشویکی حکومت نے مسلم آبادی سے اسلام کو نا پید کرنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔مسلمانوں کے مدارس بند اور اوقاف ضبط کر لئے گئے۔اسلامی شعائر پر پابندی لگا دی گئی اور سمر قند کی جامع مسجد کا وہ مینار جہاں کھڑے ہو کر مؤذن اذان دیتا تھا، گر ا دیا گیا اور اس کی جگہ لینن کا ایک بہت بڑا سٹیچو (Statue) رکھ دیا گیا اور نیچے جو عبارت درج کی گئی اس کا مفہوم یہ تھا کہ آج سے اس مینار سے اذان کی آواز بلند نہیں ہو گی بلکہ مارکس اور لینن کی آواز سنائی دے گی۔15 لینن نے 21 جنوری 1921ء کو وفات پائی جس کے بعد سٹالن (Stalin) جیسا جابر وسفاک آمر برسر اقتدار آگیا۔سٹالین کا تیس سالہ دور حکومت روز اول سے آخر تک اسلام دشمنی کے خونی واقعات سے رنگین ہے۔دسمبر 1924ء کا واقعہ ہے کہ اس شخص کی استبدادی حکومت نے جماعت احمدیہ کے ایک صوفی منش عالم دین حضرت مولوی ظہور حسین صاحب کو جو بخارا جیسے قدیم عظیم الشان اسلامی مرکز میں قرآن مجید کا نور پھیلانے کے لئے جارہے تھے۔ارتھک اسٹیشن پر گر فتار کر لیا اور پہلے ار تھک اور پھر عشق آباد، تاشقند اور ماسکو کے قید خانوں کی تاریک کو ٹھریوں میں ایسی ایسی اذیتیں پہنچائیں کہ جن کا تصور کر کے کلیجہ پھٹ جاتا اور دل پاش پاش ہو جاتا ہے۔