مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 318 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 318

318 اس خطہ میں پاکستان کا نام و نشان ہمیشہ کے لئے مٹ جاتا اور مسلم سپین کی طرح صرف قصہ پارینہ بن کے رہ جاتا۔اس سنگین اور لرزہ خیز صورت حال ہی کا کسی قدر اندازہ لگانے کے لئے پیپلز پارٹی کے ترجمان ”مساوات“ کے ایڈیٹر اور پارٹی کے نامور مبصر جناب عباس علی شاہ (عباس اطہر) کے تازہ اور حقیقت افروز انٹرویو کے درج ذیل حصہ کا مطالعہ کرنا از بس ضروری ہے جو انہوں نے رسالہ ”قومی ڈائجسٹ“ کے خصوصی نمائندہ کو دیا اور اس رسالہ نے خاص اہتمام سے جولائی 2008ء کے شمارہ میں زیب اشاعت کر دیا ہے۔متعلقہ حصہ درج کیا جاتا ہے۔” سوال: بھٹو صاحب سیاستدان تھے کہ شعبدہ باز تھے ؟ جواب: پتہ نہیں سیاستدان کیا ہوتا ہے اور شعبدہ باز کیا ہوتا ہے؟ لیکن وہ ایک درد مند دل رکھنے والا انسان تھا۔وہ ایک آدمی تھا جس نے غریب آدمی کو عزت نفس کا احساس دلایا۔اس کے دور کے پاکستان کا باقی ادوار سے موازنہ کر لیں تو میرے خیال میں اس کا دور معاشی اعتبار سے پاکستان کا بہترین زمانہ تھا۔انہوں نے ملک کے اندر روزگار کے مواقع پیدا کئے۔بیروزگاری ختم ہوئی۔عرب ممالک کے دورے کر کے پاکستانیوں کو باہر کے ممالک، خلیجی ریاستوں میں ملازمتیں دلوائیں۔اس کے لئے انہوں نے آتے ہی باہر کے دورے ( پندرہ ایک دفعہ دورے کئے، تیرہ ایک دفعہ) کیے جس کے نتیجے میں ہمارے لوگ باہر جانے لگے۔زرمبادلہ کی پاکستان آمد شروع ہوئی جس سے معاشی سرگرمیوں میں مثبت اثر پڑا۔گاؤں گاؤں میں ریڈیو بج اٹھا۔آج تو ٹیلی ویژن ہر گھر میں ہے۔ان دنوں ریڈیو بڑی شے ہوتی تھی۔لوگوں کو ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ کچھ آسائشیں بھی میسر آئیں۔سعودی عرب، کویت، عراق، لیبیا اور خلیج کی ریاستوں میں پاکستانیوں کے جانے سے پاکستان میں باہر کا پیسہ آنا شروع ہوا تو یہاں پر ان کے رشتے داروں کے دن پھر گئے۔سوال: بھٹو اور مجیب نے مغربی اور مشرقی پاکستان میں انتخابات میں ایک دوسرے کے مد مقابل امیدوار کیوں کھڑے نہیں کئے تھے ؟ یہ سب غیر ارادی تھایا کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ؟ جواب: میر اخیال ہے یہ سب حالات کا تقاضا تھا۔دراصل بنگالیوں یا مشرقی پاکستانیوں کے دل میں مغربی پاکستان بالخصوص پنجاب کے خلاف نفرت انتہا پر تھی۔وہ اپنا ذہن بنا چکے تھے کہ یا تو ان کے استبداد سے نجات حاصل کرنی ہے یا پھر ان سے چھٹکارا پانا ہے۔یہ سارا کیا دھر اہماری فوج کا تھا۔وہاں پر مجیب صاحب کی مقبولیت عروج پر تھی۔وہاں کے لوگ انہیں ”بنگلہ بندھو“ کے نام سے پوجتے تھے۔میرے خیال میں ان کے مقابلے میں صرف ایک بندہ جیتا تھا۔نور الامین۔بھٹو صاحب اگر وہاں