مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 255 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 255

255 مجھ میں اس قدر صلاحیت پیدا کر دی ہے کہ حالات و واقعات پر غیر جانبدار نہ حیثیت سے غور کر سکوں۔میری فارسی نظموں کا مقصود اسلام کی وکالت نہیں بلکہ میری قوتِ طلب و جستجو 59 تو صرف اس چیز پر مرکوز رہی ہے کہ ایک جدید معاشرتی نظام تلاش کیا جائے اور عملا یہ نا ممکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشری نظام (یعنی اسلام ناقل) سے قطع تعلق کر لیا جائے جس کا مقصد وحید ذات پات رتبہ و درجہ رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے۔60 60" اس خط میں انہوں نے آنحضرت صلی ایم کے عہد مبارک سے اب تک کی مسلم مملکتوں کی نسبت یہ رائے دی کہ :- ” اسلام کو جہاں سنانی اور کشور کشائی میں جو کامیابی ہوئی ہے میرے نزدیک وہ اس کے مقاصد کے حق میں بے حد مضر تھی۔اس طرح وہ اقتصادی اصول نشو و نمانہ پاسکے جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث نبوی میں جابجا آیا ہے۔یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں نے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کر لی لیکن ساتھ ہی ان کے سیاسی نصب ہیں: 61" العین پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا۔سر اقبال جیسے قادر الکلام اور فلسفی شاعر نے خود ہی اپنی باطنی بغاوت کا نقشہ کھینچا ہے۔فرماتے تمدن، تصوف، شریعت، کلام ہے کہ :- بتان عجم کے پجاری تمام حقیقت روایات میں کھو گئی یہ امت خرافات میں کھو گئی 62 ماہر اقبالیات خواجہ عبد الحمید صاحب ایم اے لیکچرار فلسفہ گورنمنٹ کالج لاہور کی تحقیق یہ ہے ”اقبال کہتا ہے کہ مرد کامل نہ صرف مادی دنیا پر حاوی ہو کر اسے جذب کر لیتا بلکہ وہ تو ربانی صفات کا اکتساب کر کے خدا کو بھی اپنی خودی میں جذب کرلیتا ہے۔63"