مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 247
247 ہو گیا۔یہ مذہب ظلم و تعدد کی پروانہ کر کے تمام فلسفیانہ اور مذہبی میلانات کو متحد کر تا اور روح میں اشیاء کی ٹھوس حقیقت کا شعور پیدا کر دیتا ہے۔اگرچہ اس کی نوعیت بہت ہی جامع اور ہمہ گیر تھی۔“34 اقبال کے معاصر علماء اہلسنت نے اقبال کے اس فلسفہ الحاد وزندقہ کی بناء پر (جو اسلام سے ارتداد کے بعد باب اور بہاء اللہ اور قرۃ العین کے آستانہ تک پہنچا دیتا ہے ) واضح لفظوں میں مولوی محمد دیدار علی صاحب خطیب مسجد وزیر خاں اور وسط ہند کے سنی علماء نے اقبال پر کھلے بندوں فتاویٰ کفر دیئے۔مولوی دیدار علی کے فتوی کا متن اخبار زمیندار 15 اکتوبر 1925ء میں شائع شدہ ہے۔35 بالکل یہی وجہ ہے کہ اقبال کی نماز جنازہ کسی سنتی عالم نے نہیں بلکہ کٹر شیعہ عالم سید علی الحائری نے پڑھائی۔36 ماہرین اقبالیات برسوں سے اس پریشان خیالی میں مبتلا ہیں کہ کلام اقبال میں بے حد تضاد ہے۔حالانکہ اقبال 1906ء سے بہائی وہابی مذہب اختیار کر چکے تھے اور گستاخ رسول قرۃ العین طاہرہ کے اول نمبر کے پرستاروں میں سے تھے۔یہی ان کا باطنی دین تھا جو اول سے آخر تک قائم رہا جس سے کبھی ان کے قلم سے انکار ثابت نہیں کیا جاتا۔بایں ہمہ اسلام اور مسلمانوں کی بابت جو کچھ بھی ان کے قلم سے نکلا اس کو بہائیت ہی کا نام دیا جاسکتا ہے۔اور وہ دین بہائی کے اس بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر مسلمان، سکھ ، ہندو، عیسائی، یہودی، پارسی حتی کہ ہریجن یا دہر یہ بھی اپنے اپنے ذاتی خیالات پر رہتے ہوئے بھی خود بخود بہائی بن جاتا ہے۔بشر طیکہ وہ بہاء اللہ پر ایمان رکھے۔پس سر اقبال کے حقیقی خد و خال صرف آئینہ بہائیت میں نمایاں ہو سکتے ہیں اور اسلام اور مسلمان کا نام وہ عمر بھر اپنی فلسفیانہ اصطلاح میں استعمال کرتے رہے کہ دونوں چیزیں دشمن زمانہ ہیں۔علامہ اقبال کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے جہاں 1902ء کے بعد براؤن (متوفٰی 16 جنوری 1926ء) جیسا معروف مستشرق بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دے رہا تھا۔براؤن نے بابی اور بہائی دین پر وقیع کام کیا ہے۔اس نے 1891ء میں امر بہائی کے بانی بہاء اللہ سے عکہ میں ملاقات کی تھی۔وہ نو دن ان کا مہمان رہ چکا تھا۔اس لئے بعید نہیں کہ علامہ اقبال نے براؤن وغیرہ سے بھی استفادہ کیا ہو۔علامہ اقبال براؤن کے مداح تھے۔براؤن کی وفات پر انہوں نے قطعہ تاریخ بھی کہا تھا۔37 تا به فردوس بریں ماوی گرفت گفت ہاتف ” ذالک الفوز العظيم 66