مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 246 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 246

246 نہیں پاسکتا جن کے متعلق 1906ء میں یورپ نے اس یقین پر قائم کر دیا تھا کہ وہ نسلی امتیاز اور ملکی قومیت کی علمبر دار اور دشمن زمانہ ہے۔یقینا اقبال نے چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی اسلوب کو اختیار کیا جو پچھلی صدی میں عیسائی اختیار کئے ہوئے تھے۔چنانچہ ان کا موقف تھا کہ حضرت یسوع مسیح ہی خاتم النبیین ہیں۔اصل اسلام کلیسا ہے اور حقیقی مسلمان اس کے پیروکار ہیں۔چنانچہ لدھیانہ کر سچن لٹریچر سوسائٹی نے 1900ء میں ” مسیح یا محمد “ کے زیر عنوان پمفلٹ میں لکھا ” یسوع مسیح سب سے برتر اور خاتم المرسلین ہیں۔“ اسی طرح اسی سال سوسائٹی نے ”سچا اسلام “نامی ٹریکٹ شائع کیا جس کالب لباب یہ تھا کہ عیسائیت ہی اسلام ہے اور مسیحی حقیقی مسلمان ہیں۔یہ ٹریکٹ پہلی بار چار ہزار کی تعداد میں چھپ کر پورے ملک میں پھیلا دیا گیا۔بالکل یہی اسلوب اقبال نے یہاں اختیار کیا ہے اور سیاق وسباق کے مطابق یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ یورپ کی فضا اور بہائی مبلغ و مورخ مسٹر براؤن کی دستگیری، راہنمائی اور تبلیغ نے اقبال کو ” دشمن اسلام کے چنگل سے بچا کر جس صورت کا مسلمان بنایا ہے ، وہ ایک الگ چیز ہے۔جس کا دوسرا نام ”بابی اور بہائی مسلمان“ ہے جو اقبال کی نگاہ میں ”نسلی امتیاز و ملکی قومیت“ سے داغدار نہیں بلکہ صوفیاء اسلام کے مخالف اتحاد عالم کا پیامبر اور جامع اور ہمہ گیر ہے۔چنانچہ اقبال نے اپنے مقالہ میں نہایت چابکدستی سے پہلے مزدکیت کا ذکر کیا ہے جو قرۃ العین طاہرہ کی بدشت کا نفرنس کی تقریر کے مطابق بابیت کی بنیادی اینٹ اور فکر اساس ہے۔ازاں بعد مسلم صوفیاء کے نظریہ وحدت الوجود کا ذکر کیا ہے تا مسلمانان عالم، باب اور بہاء اللہ کے دعویٰ خدائی کو تصوف کا باب سمجھ لیں اور ان کی نئی شریعت پر جرح قدح کرنے کا خیال تک نہ لائیں۔یوں عالم اسلام کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے بعد بابیت اور اور بہائیت کی تمام اسلامی فرقوں پر فوقیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا: ایرانی تفکر کے یہ مختلف سلسلے ایران جدید کی اس زبر دست مذہبی تحریک سے ایک بار پھر متحد ہو گئے جو بابی یا بہائی مذہب کے نام سے موسوم ہے۔33 مقالہ کے آخر میں مبلغ بابیت و بہائیت محمد اقبال نے اس جدید مذہب کی تمام ادیان عالم پر برتری کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا۔تحریر فرماتے ہیں: ”بعد کے مفکرین میں ہم دیکھتے ہیں کہ نوفلاطونیت سے حقیقی فلاطونیت کی طرف جو حرکت شروع ہوئی تھی۔اس کو ملا ہادی کے فلسفہ نے تکمیل تک پہنچا دیا تھا۔لیکن خالص تفکر اور خواب آور تصوف کے راستے سے بابی مذہب بری طرح حائل