مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 237
237 رکھنا فرض ہے اور اس کا علم حاصل کرنا سنت ہے۔اس کا انکار کفر ہے اور اس سے لا علم رہنا بد نصیبی ہے اور اسے عمداً چھوڑنا باعث عتاب وعقاب ہے۔اس تفسیر کے متعلق جو بات میں نے صرف ابتدائی کے بعد پوری وضاحت اور تفصیل سے بیان کر دی ہے وہ یہ ہے کہ مجھ پر اس تفسیر میں صرف گدلا پن ہی اور واضح دھو کہ رہی ہی ظاہر ہوئی ہے اور اس تفسیر کا دین سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہے۔اگر میں اس تفسیر پر دوٹوک تبصرہ نہ کروں بلکہ اس سے صرف نظر اور چشم پوشی کروں تو (اس تفسیر کی وجہ سے) پورے ہندوستان میں کفر والحاد کی آندھی چل پڑے گی اور ہر طرف پھیل جائے گی اور آج سے فہم قرآن کا مدار اس جیسی تفاسیر پر ہو جائے گا۔بڑا مشکل ہو گا کہ اس کی لپیٹ سے کوئی شخص بیچ سکے سوائے اس کے جسے خود اللہ نے علم صحیح عطا کیا ہو اور اسے ان لوگوں کے انفاس قدسیہ کے ذریعہ پاک کیا ہو، جن کی صحبت اصلاح نفوس کی عظیم تاثیر رکھتی ہے۔اور اس کا دل نبی کریم ملی ایم کے ارشاد پر مطمئن ہو اور اس معاملہ میں اپنی لولی لنگڑی اور بو دی سوچ کو نہ گھسیڑے۔ہندوستان کے علماء اہل حدیث میں سے ایک نے اس تفسیر ترجمان القرآن کا رد لکھنا شروع کر دیا ہے اور اس کا ایک جزو چھپ بھی گیا ہے۔لیکن تاحال میں اس کا مطالعہ نہ کر سکا ہوں۔مجھے امید ہے کہ اس عالم نے اس تفسیر کار دپوری شرح وبسط سے کیا ہو گا۔اگر ابوالکلام علم صحیح رکھتا ہوتا اور رسول کریم کی یہ کام کے لائے ہوئے دین کی کچھ قدر کرتا ہو تا تو بالکل ممکن تھا کہ عصر حاضر کے ان عظیم لوگوں میں شمار ہوتا جن پر زمانہ فخر کرتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی بڑی قدر و منزلت ہوتی۔لیکن کیا جائے کہ مومن کے دل میں سچے دین کی محبت ابو الکلام کی محبت کے مقابلہ میں کہیں زیادہ جاگزیں ہے۔پس لازمی ہے کہ شریعت کو اس میل کچیل سے محفوظ رکھا ها الله جائے جو شریعت کی قدر اصحاب بصیرت اور عقل سلیم رکھنے والوں کی نظر میں گرارہی ہے۔اللہ تعالی ساری امت کو درست راستے پر چلنے کی توفیق دے اور انہیں سیدھی راہ کی ہدایت وسط 1936ء کا واقعہ ہے کہ گیا کے ایک صاحب حکیم سعد اللہ گیاوی نے ابوالکلام آزاد صاحب سے حدیث مجدد کی نسبت سوال کیا جس پر انہوں نے غضبناک ہو کر جواب دیا: ” ہمیں کون سی ضرورت ہے کہ اس لغویت میں پڑیں۔ہم نہیں جانتے مجد د کیا بلا ہوتی ہے۔1