مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 211
211 ریاستوں کی آزادی کا چراغ گل کرنے کے لئے جارحیت شروع کی تو ان عناصر نے اندر سے نقب لگا کر ان کا ہاتھ بٹایا۔اس جارحیت کا آغاز جنوری 1918ء سے قازقستان پر حملے سے ہوا۔20 مارچ تک سارا قازقستان روسیوں کے چنگل میں کراہ رہا تھا۔ان ہی دنوں 12 جنوری کو شرخ روسی فوجیں کریمیا پر حملہ آور ہوئیں اور دو دن کے بعد وہ بھی از سر نو غلام بن چکا تھا۔ترکستان کی آزادریاست 14 فروری 1918ء کو ختم ہو گئی۔مارچ1918ء میں روسی قازان پر قابض ہو گئے۔داغستان، شمالی قفقاز ، اور باشکیر کی باری اگلے سال کے وسط میں آئی۔آذربائیجان واحد ریاست تھی جو سوا دو برس زندہ رہی۔جنوری 1920ء میں روسی فوجوں نے حملہ شروع کیا اور اپریل ختم ہوتے ہوتے یہ آخری ریاست بھی دم توڑ گئی۔روسیوں نے ہر جگہ مسلمانوں کو ان کے جذبہ آزادی کی سزا دی۔لیکن سب سے زیادہ خونریزی خوقند میں کی جہاں انہوں نے قتل عام میں چودہ ہزار افراد کوموت کے گھاٹ اتار دیا اور پھر خوراک کے ذخائر ضبط کر کے اور غلے کی درآمد روک کر ہولناک قحط پیدا کر دیا جس میں 25 سے 50 فیصد آبادی ہلاک ہو گئی۔یہ قتل عام اس قدر وحشیانہ تھا کہ روسی رہنما بھی اس انسانی المیے کے وقوع سے انکار نہ کر۔۔۔۔E چوپلان نے مغربی ترکستان کی غلامی کے بارے میں اپنے اشعار میں کہا تھا: ”ہنسنے والے دوسرے ہیں، رونے والا میں ہوں کھیلنے والے دوسرے ہیں، کراہنے والا میں ہوں آزادی کی داستان سننے والے دوسرے ہیں غلامی کے گیت گانے والا میں ہوں آزاد دوسرے لوگ ہیں ، میں تو غلام ہوں جس کو جانوروں کی قطار میں ہنکایا جارہا ہے وہ میں ہوں 5 سٹالن ازم نے مشرقی ترکستان پر جابرانہ تسلط کے بعد کس طرح مسلمانوں کو آہنی چکی میں