مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 209 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 209

209 کا نقطئہ نظر بنیادی طور پر ایک تھا یعنی وہ روسی ریاست کے اندر رہنا چاہتے تھے۔محض زبانی نہیں، تحریری معاہدوں کے ذریعے۔تیسر اگر وہ مکمل آزادی کا علمبر دار تھا۔اب چوتھا گر وہ بھی پیدا ہو گیا جو ان اعلانات پر اعتبار کر کے کسی قسم کے مذاکرات اور معاہدے کے بغیر بالشویک حکومت کی حمایت کر رہا تھا۔قبل ازیں مسلمانوں کے حامی بہت کم اور بڑی حد تک بے مایہ تھے۔اب اس نئے عنصر کی بدولت بالشویکوں کو مسلمانوں کے اندر قدم جمانے کا موقع مل گیا۔یہ عنصر علماء جمعیتی (جمعیت علماء) پر مشتمل تھا۔یہ لوگ پہلے روسیوں کے دائیں بازو کا ساتھ دیتے رہے تھے۔لیکن اب بالشویکوں کے بچھائے ہوئے دام پر کچھ ایسے لٹو ہو گئے تھے کہ پیشگی ضمانت حاصل کرنے کی ضرورت بھی نہ سمجھتے تھے اور شیر علی لاپن کی سر براہی میں نئی حکومت سے تعاون کی دعوت دینے لگے تھے۔ان کی کوشش تھی کہ مسلمان ان کی پالیسی اجتماعی طور پر اپنا لیں۔نومبر 1917ء میں وسطی ایشیا کے مسلمانوں کی تیسری کانفرنس ہوئی۔اس میں جمعیت علماء کے لیڈر غالب تھے۔انہوں نے دباؤ بھی ڈالا، تاہم کا نفرنس نے نئی اتھارٹی کے خلاف معاندانہ پوزیشن اختیار کر لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ علماء جمعیتی الگ ہوگئے۔مسلمانوں کے باقی تمام سیاسی گروہ مسلم کو نسل کے پرچم کے تلے جمع ہو گئے۔یہ گویا روسیوں اور مسلم وسط ایشیا کے درمیان بحران کا آغاز تھا۔لاپن نے مخلوط حکومت بنانے اور قدامت پسندوں کو آدھی نشستیں دینے کا مطالبہ کیا۔مسلم کونسل کے نمائندوں نے مقامی خود مختاری کی تجویز پیش کی۔روسیوں نے ان مطالبات اور تجویزوں کو مسترد کر دیا۔لاپن کی خوش گمانیوں کے محل بھی زمین پر آرہے تھے۔روسیوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ انہیں ان کے مطالبات منظور نہیں، ” مقامی آبادی کا رویہ بالشویک حکومت کے بارے میں مشکوک ہے ، اس میں کوئی پرولتاری تنظیم بھی نہیں کہ ہم اسے علاقائی حکومت کے بلند ترین شعبوں میں خوش آمدید کہیں۔تاہم بالشویکوں کے اثرات گہرے بھی ہو چکے تھے اور نسبتاً وسیع بھی۔اس میں وہ علماء جمعیتی کی جانب سے کسی بھی رد عمل کا سامنا کر سکتے تھے۔اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک نرالی تحریک مسلمانوں میں اُٹھ کھڑی ہوئی تھی اور اس میں پیش پیش سادہ لوح، بے بصیرت اور لالچی ملا تھے۔وہ سوشلزم کو عین اسلام قرار 66W