مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 204
204 ہیں۔۔۔۔آپ اس حکومت میں آزاد ہیں۔اپنے مندروں اور مسجدوں میں جاؤ۔آپ کے مذہب یا فرقے کا ملک کے کاروبار سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔25" غور سے دیکھا جائے تو علامہ صاحب متضاد خیالات، عقائد اور نظریات کے مرکب تھے اور ان کا عمل سب سے جدا گانہ تھا۔ایک طرف قادیانی فرقہ کے مسلمانوں کے خلاف سخت مضامین لکھ کر تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہے تھے۔دوسری طرف ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایک مقام پر متحد کرنا چاہتے تھے۔26 آپ کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ جو عناصر ”علامہ“ کو حکیم الامت، شاعر مشرق وغیرہ القاب سے یاد کرتے ، ان کے نام اکیڈیمیاں قائم کر کے اور کتابیں لکھ کر پاکستان بلکہ عالم اسلام میں تشہیر کر رہے ہیں، اُن کے پیچھے مخصوص سیاسی مقاصد ہیں۔مثلاً عوام کے طبقہ اعلیٰ کے مفاد کی خاطر مذہب کے نام پر گمراہ کرنے کا مواد اسی طریق سے مہیا ہوتا ہو تا ہے۔27 جی ایم سید نے سیاست میں مذہب کو دخیل کرنے پر سر اقبال کی شدید مذمت کی جس کی تشبیہ یہودیوں کی مملکت اور کمیونسٹ ممالک سے دی ہے نیز لکھا:۔ایک ہی وطن میں مذہب کی بنیاد پر جدا گانہ قومیت کا وجود ملکی سالمیت واستحکام کے خلاف تھا۔یہ بین الا قوامی نظریہ کے اساس پر قائم ہوئی قوم تھی۔اس پر مشکل حالات میں اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے۔جس طرح کمیونسٹ ممالک نے آزادی حواشی: "1 فکر پر پابندی عائد کر کے عقائد و نظریات پر پہرے بٹھا دیئے۔“ 28" علامہ اقبال کا خطبہ صدارت اجلاس مسلم لیگ الہ آباد 1930ء صفحہ 13-15 شائع کر دہ حکومت مغربی پاکستان۔2 خطبہ صدارت صفحہ 2۔3 ”زندہ رود“ جلد سوم صفحہ 385 تا 387۔4 مطبوعہ پاکستان ٹائمز 7 مئی 1967ء بحوالہ زندہ رود جلد سوم صفحه 389-682 از جسٹس جاوید اقبال ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ، اشاعت اول - 1984 5 اقبال۔جادو گر ہندی نژاد صفحہ 131 مولفہ عتیق صدیقی ناشر مکتبہ جامعہ نئی دہلی طبع اول اگست 1980ء۔6 تحدیث نعمت طبع دوم صفحہ 294۔295۔7 Famous letters and speeches edited by L۔F۔Rush Brook Williams quondam fellow of all souls colleague p:551- 552۔