مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 180
180 مسلمانوں کو اس کے خلاف سخت مشتعل کر رہے ہیں۔گورنمنٹ کو ایسے اشخاص کا ہر وقت خیال رکھنا چاہئے۔19 اسی نظریہ کے مطابق جناب ابو القاسم صاحب دلاوری مولف رئیس قادیان“ اخبار ”آزاد“ میں لکھتے ہیں: گو مرزا صاحب نے تقدس کی دکان ابتداء محض شکم پروری کے لئے کھولی تھی لیکن ترقی کر کے سلطنت پر فائز ہونے کا لائحہ عمل بھی شروع سے ان کے پیش نظر تھا۔اور انہیں آغاز کار سے اس مطلب کے الہام بھی ہوا کرتے تھے۔چنانچہ بقول میاں بشیر احمد ایم۔اے مرزا صاحب کا پہلا الہام جو 1868ء یا 1869ء میں ہوا، یہ تھا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔۔۔۔خود مرزا صاحب نے نہ صرف الہام کا بڑے طمطراق سے براہین میں تذکرہ فرمایا۔بلکہ عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی مرزا صاحب کی مقدس بارگاہ میں پیش کر دیئے گئے۔۔۔۔گو بادشاہوں کی متابعت کا کشف یا خواب کبھی پورا نہ ہو۔لیکن اس سے کم از کم قادیانی صاحب کی ذہنی کیفیت، ان کے خیالات کی بلند پروازی اور ان کی الوالعزمی کا ضرور پتہ چلتا ہے اور اس سے یہ بھی متبادر ہوتا ہے کہ قیام سلطنت کے اصل داعی و محرک میرزا صاحب ہی تھے۔آخر کیوں نہ ہو۔قوم کے مغل تھے اور رگوں میں تیموری خون دوڑ رہا تھا۔میرے خیال میں میرزا صاحب نے قیام سلطنت کی جن آرزوؤں کو اپنے دل میں پرورش کیا، درش کیا، وہ قابل صد ہزار تحسین تھیں۔“20 لیکن ان حقائق کے باوجود اشتراکیت اور کانگرس کے ایجنٹوں نے جماعت احمدیہ کو برطانوی امپر یلزم قرار دے کر مسلمانان ہند میں نفرت کی ایک خلیج حائل کر دی حالانکہ یہ سو فیصدی جھوٹ تھا جس کی بنیاد انقلابی احرار لیڈروں کے ”شیخ الاسلام حسین احمد دیوبندی کے اس فتویٰ پر تھی کہ ” عام لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ ہر حالت میں بُرا اور حرام ہے حالانکہ جھوٹ بعض اوقات میں فرض اور واجب ہو جاتا ہے۔” ہمارے بزگوں نے 1857ء میں سب کچھ کیا تھا مگر جب انگریز حکام نے پوچھا تو سب کا انکار کر کے چلے آئے اور کسی چیز کا اقرار نہ کیا۔۔۔۔یہ جھوٹ ناجائز نہیں بلکہ ضروری ہے۔“21