مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 129
129 ماسکو میں کانگرس اور ہندوستان سے روابط میں استحکام 2 تا 6 مارچ 1919ء کو ماسکو میں کمیونسٹ انٹر نیشنل کی پہلی کانگرس نے ساری دنیا کے پرولتاریہ کے لئے مینی فیسٹو منظور کیا جس میں بتایا گیا کہ کمیونسٹ انٹر نیشنل مارکس اور اینجلز کے ان نظریات کی حامل ہے جن کا اظہار اس میں کیا گیا ہے۔دستور کی منظوری کے بعد کمیونسٹ انٹر نیشنل نے ممالک عالم خصوصاً ہندوستان کے سوشلسٹوں سے اپنے روابط غیر معمولی طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع کرنے شروع کر دیئے۔2 ایک ماہ بعد امرتسر کے جلیانوالہ باغ کا خونیں واقعہ پیش کیا۔ایک روسی دانشور اس سانحہ کا ذکر درج ذیل الفاظ میں کرتے ہیں۔13 اپریل 1919ء کو پنجاب کے ایک اہم صنعتی شہر امرتسر میں بر طانوی فوجیوں نے ہزاروں محنت کشوں کے جلسے پر گولی چلائی جو برطانوی نو آباد کاروں کے جبر و تشدد کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اس میں تقریباً ایک ہزار آدمی مارے گئے اور دوہزار کے قریب زخمی ہوئے۔امرتسر کے قتل وغارت کے جواب میں پنجاب میں عوامی بغاوت پھوٹ پڑی اور اس کی لہر ہندوستان کے دوسرے حصوں میں پھیل گئی۔برطانوی نو آباد کاروں نے پنجاب کی بغاوت کو بُری طرح کچل دیا۔3 صدر روس لینن نے کمیونسٹ انٹر نیشنل کی تیسری کانگرس میں جلیانوالہ کے قتل عام کا اپنی تقریر میں خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا: نو آبادیاتی عوام اور نیم نو آبادیاتی ملکوں کے محنت کش عوام میں جن پر دنیا کی آبادی کی اکثریت مشتمل ہے۔سیاسی زندگی کا احساس بیسویں صدی کی ابتدا ہی میں پیدا ہو گیا تھا۔۔۔۔برطانوی ہندوستان ان ملکوں میں سر فہرست ہے اور وہاں انقلاب اتنی ہی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے جتنا کہ ایک طرف صنعت اور ریلوے کے پرولتاریہ میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف جتنا اضافہ انگریزوں کی وحشیانہ دہشت انگیزی میں ہو رہا ہے جو اکثر قتل عام (امر تسر ) اور منظر عام پر جسمانی اذیت وغیرہ پہنچانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔“ نہرو۔کانگرس میں سوشلسٹوں کے لیڈر جناب ابو الکلام آزاد نے غدر پارٹی میں شامل ہو کر سوشلسٹ انقلاب بر پا کرنے اور بنگالی سادہ