مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 45
45 3" ہندوستان کی شورش فوجی بغاوت نہیں بلکہ قومی انقلاب ہے۔جناب سبط حسن نے اپنی کتاب میں کارل مارکس کا یہ خیال نمایاں رنگ میں پیش کیا ہے کہ ”ہندوستانیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ انگریزوں کے نافذ کردہ معاشرے کے نئے عناصر یعنی مشینی صنعت کاری کا پھل اُس وقت تک نہیں کھا سکیں گے جب تک برطانیہ میں موجودہ حاکم طبقے کی جگہ پرولتاریہ کا راج نہ ہو جائے یا خود ہندوستانی اتنے قوی نہ ہو جائیں کہ انگریز کی غلامی کا جوا اتار پھنکیں۔ہندوؤں سے کارل مارکس کی ہمدردی سے لکھا: 4" ہندو قوم کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے غلیظ زبان بھی استعمال کی اور انتہائی غیظ و غضب ” جب بورژوا تہذیب اپنے وطن سے جہاں وہ معقول اور معزز شکلیں اختیار کرتی ہے، نو آبادیات کی طرف بڑھتی ہے جہاں وہ بالکل عریاں ہو جاتی ہے تو اس کی گہری ریاکاری اور بربریت، جو اُس کی فطرت کا خاصہ ہے ، ہماری آنکھوں کے سامنے بے نقاب ہو جاتی ہے۔یہ لوگ ملکیت کے حامی ہیں لیکن کیا کوئی انقلابی جماعت کبھی اس قسم کے زرعی انقلابات عمل میں لائی ہے جیسے بنگال، مدراس اور بمبئی میں ہوئے ہیں۔میں خود اس مہا ڈاکو لارڈ کلائیو کا ایک فقرہ استعمال کر کے کہتا ہوں کہ جب معمولی رشوت ستانی ان کی حرص و ہوس کو آسودہ نہیں کر سکی تو کیا انہوں نے ہندوستان میں زور اور زبر دستی سے بے اندازہ دولت نہیں بٹوری ؟ جبکہ وہ یورپ میں قومی قرضوں کی اہمیت اور تقدس کے متعلق بکو اس کرتے نہیں تھکتے تھے تو اسی کے ساتھ ساتھ کیا انہوں نے ہندوستان میں ان را جاؤں کے منافع ضبط نہیں کئے جنہوں نے اپنی نجی بچت کو خود کمپنی کے سرمائے میں لگا دیا تھا۔وہ ”ہمارے مقدس مذہب “ کی حمایت کا نام لے کر ادھر تو فرانسیسی انقلاب سے جنگ آزما رہے اور ادھر ہندستان میں کیا انہوں نے عیسائیت کے پر چار کی قطعی مخالفت نہیں کی۔اور کیا انہوں نے اوڑیسہ اور بنگال کے مندروں میں جوق در جوق آنے والے یاتریوں سے روپیہ اینٹھنے کے لئے جگن ناتھ کے مندر میں ہونے والی عصمت فروشی اور قتل کی گرم بازاری میں ہاتھ