مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 32 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 32

32 کہ امیر کی ماں نے میل ملاقات بند کر دی ہے۔پچھلے تین روز سے ملاقات نہیں ہوئی۔گرامی کھلکھلا کر ہنس پڑے۔پنجابی میں کہا۔او چھڑ یار توں وی غضب کرنا ایں، او تینوں اپنی ہنڈی کس طرح دے دین۔چھوڑو یار تم بھی غضب کرتے ہو، بھلا وہ تمہیں اپنی ہنڈی کیونکر دے دے)۔علامہ بیحد غمگین تھے۔گرامی نے علی بخش سے کہا۔گاڑی تیار کرو۔مجھے ساتھ لیا اور اُس بازار کو روانہ ہو گئے۔امیر کے مکان پر پہنچے۔دستک دی۔امیر کی ماں نے گرامی کو دیکھا تو خوش دلی سے خیر مقدم کیا۔آپ اور یہاں۔۔۔۔؟ اهلا و سهلا گرامی نے امیر کی ماں سے گلہ کیا کہ تو نے ہمارے شاعر کو ختم کرنے کی ٹھانی ہے۔اُس نے کہا۔مولانا شاعروں کے پاس کیا ہے، چار قافیے اور دور دیفیں۔کیا میں اپنی لڑکی ہاتھ سے دے کر فاقے مر جاؤں؟ آپ کا شاعر تو ہمارے ہاں نقب لگانے آتا ہے۔میری لڑکی چلی گئی تو کون ذمہ دار ہو گا؟ گرامی نے اُجلی داڑھی کا واسطہ دیا اور دو گھنٹہ کی شخصی ضمانت دے کر امیر کو ساتھ لے آئے۔میں علی بخش کے ساتھ ، گرامی امیر کے ساتھ ، گھوڑا دڑ کی میں چلا آرہا تھا۔علامہ کے ہاں پہنچے تو گر امی نے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔اٹھوجی، آگئی امیر۔سچ مچ ؟ علامہ نے حیرت سے پوچھا۔امیر سامنے کھڑی تھی۔دفعتنا اُن کا چہرہ جگمگا اٹھا۔سالک صاحب نے یہ واقعہ سناتے ہوئے کہا۔زندگی میں اس قسم کی آرزوئیں ناگزیر ہوتی ہیں۔انسان کو ان راستوں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔فرمایا۔جس زمانہ میں اقبال انار کلی میں رہتے تھے ، ان دنوں لاہوری دروازہ اور پرانی انار کلی میں بھی کسبیوں کے مکان تھے۔ایک دن میں علامہ کے ہمراہ انار کلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک وہ ایک ٹکیائی کے دروازہ پر رک گئے۔ادھیڑ عمر کی کالی کلوٹی عورت، مونڈھے پر بیٹھی حقہ سلگا رہی تھی۔اندر گئے۔حقہ کا کش لگایا۔اٹھنی یارو پیہ اس کے ہاتھ میں دے کر آگئے۔“