مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 307
307 کے قابل نہیں سمجھا جائے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کا رد کرتا ہے اور فرماتا ہے ہم نے زمین میں ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں جن کی وجہ سے وہ حسب ضرورت غذا دے گی خواہ زمین سے نکال کر یا نئی غذا کے ایجاد ہونے یا آسمانی شعاعوں کی مدد سے “۔4 اس طرح قرآن مجید نے قبل از وقت خبر دی کہ اِن مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَايِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر:22) یعنی دنیا کی تمام چیزوں کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر ضرورت و مقتضائے مصلحت و حکمت ان کو نازل ( یعنی پیدا) کرتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ و امریکہ کے ہر مذہب یا دہر یہ فلاسفر اور معاشیات کے سکالرز عرصہ سے سر گرداں و پریشاں ہیں کہ انسانی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے ، ان کی غذا کا کیا سامان ہو گا ؟ چنانچہ التھس (Malthus) نے اپنی تحقیقات کی بنیاد ہی اسی مفروضہ پر رکھی۔اس طرح سینٹ سائین پرودھن (Proudhon) اور فوریے (Fourier)، ایلفرڈمارشل ڈیون پورٹ سلیگ مین، ٹاسگ، واکر اور ویلبین کی علمی کاوشوں میں یہی روح کار فرما تھی۔حضرت مسیح موعود کے ہم عصر ماہرین اقتصادیات میں کارل مارکس کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہوئی کیونکہ اس نے اپنی مشہور کتاب ”سرمایہ میں سوشلزم کا فلسفہ پیش کیا جس نے پوری دنیا میں دہریت کی بساط بچھا دی اور رب العالمین کے فطری نظام معیشت کو تہہ وبالا کرنے کی ناکام کوشش کی۔یہ تاریخی توارد یقینا عالم الغیب خدا کی قدرت نمائی کا ایک کرشمہ ہے کہ اس دہر یہ فلاسفر (ولادت 5 مئی 1818ء۔وفات 14 مارچ 1883ء) کے زہر کا تریاق چونکہ مہدی آخر الزماں اور آپ کی جماعت کے ذریعہ مقدر تھا اس لئے اس دہر یہ فلسفی اور ماہر معاشیات کی زندگی کے بعض اہم مراحل کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود کی زندگی کے احوال ووقائع بھی متوازی طور پر چلتے رہے ہیں مثلاً حضرت اقدس مسیح موعود کی ولادت 1835ء میں ہوئی اور کارل مارکس نے اسی سال ٹرائر (Trier) کے ہائی سکول سے میٹرک کیا۔1872ء میں کارل مارکس کی کتاب ”سرمایہ کا روسی ترجمہ شائع ہوا۔اسی سال حضرت اقدس نے ملکی اخبارات میں دینی مضامین کا سلسلہ جاری کر کے قلمی جہاد کا آغاز فرمایا۔اس طرح کارل مارکس کی زندگی کا آخری سال مسلمہ طور پر 1882ء ہے جس کے بعد وہ بیمار