مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 287
287 جسٹس کیانی اور جسٹس منیر نے اپنی رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953ء میں احرار کی نسبت لکھا: ” اسلام ان کے نزدیک ایک حربے کی حیثیت رکھتا تھا جسے وہ کسی سیاسی مخالف کو پریشان کرنے کے لئے جب چاہتے بالائے طاق رکھ دیتے۔۔۔۔جب وہ لیگ کے خلاف صف آرا ہوئے تو ان کی واحد مصلحت اسلام تھی جس کا اجارہ انہیں خدا کی طرف سے ملا ہو ا تھا۔ان کے نزدیک لیگ اسلام کی طرف سے محض بے پروا ہی نہ تھی بلکہ دشمن اسلام تھی۔ان کے نزدیک قائد اعظم کا فراعظم تھے۔۔۔۔ملاپ لاہور نے اپنی اشاعت مورخہ 27 دسمبر 1945ء میں احراری لیڈر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ایک تقریر شائع کی جو انہوں نے علی پور کی احرار کا نفرنس میں کی تھی۔اس تقریر میں امیر شریعت نے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کیا کہ مسلم لیگ کے لیڈر۔۔۔۔جس مملکت کی تخلیق کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان نہیں خاکستان ہے۔اس رہبر محترم نے پسرور میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو پاکستان کی پ بھی بنا سکے (حوالہ استقلال نمبر روزنامہ جدید نظام 1950ء) فسادات (1953ء) کے دوران احراری لیڈر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے لاہور میں جو تقریریں کیں ان میں سے ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراً قبول کیا ہے۔3 باکل یہی عقیدہ مفتی محمود صاحب کے دست راست مولوی غلام غوث ہزاروی کا تھا جنہوں نے ایک بیان میں بر ملا کہا: ”ہم نے اس طرح پاکستان کو قبول کیا ہے کہ کوئی لڑکا کسی لڑکی کو بھگا کر لے جائے۔والدین پسند تو نہیں کرتے لیکن بیٹے کی غلطی کو تسلیم کر لیں۔“4 مسودہ میں حلف کا اضافہ مفتی محمود صاحب اور مولوی غلام غوث ہزاروی اور ان کے ہم نوا ممبران اسمبلی نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو پر زور دیا کہ مسودہ میں صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے کی شرط کا معاملہ طے ہو چکا۔لہذ ا ضروری ہے کہ آئین پاکستان میں ان کا حلف نامہ بھی تجویز کیا جائے جس میں ان کا اقرار ہو کہ ہم مسلمان ہیں اور ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔مسٹر بھٹو جنوبی ایشیا کے ہیرو بننے کے خواب