مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 280
280 اور یکجہتی کو بھاری نقصان پہنچانے کے بعد وہ اپنے منصوبہ ختم پاکستان کی تکمیل میں پہلے سے زیادہ زور شور سے منہمک ہو گئے جس نے پورے پاکستان میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑا دی جیسا کہ کتاب ”پاکستان میں وفاقیت کی سیاست“ کے درج ذیل اقتباس سے بخوبی پتہ چل سکتا ہے :- ”ہندوستان کی تقسیم کے خلاف بھارت کے انتہا پسند عناصر کے احساسات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اکثر یہ الزامات لگائے گئے کہ ہندوستانی ایجنٹ اور سازشی مشرقی پاکستان میں سرگرم ہیں تاکہ ملک کی سیاسی وحدت کو تباہ کیا جاسکے۔مار نگ نیوز کا مورخہ 4 فروری 1957ء کا اداریہ اس ضمن میں اشارہ کرتا ہے جس میں کہا گیا: کلکتہ سے موصولہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے ایک زور دار مہم شروع کی ہے تاکہ پاکستان کو ختم کر کے اس کو دوبارہ بھارت کے ساتھ متحد کیا جاسکے۔ایک سیاسی جماعت شری آروبند و سیوک سنگھ Sri Aurobindo Sevak) (Sangha جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا سیاسی پروگرام شری آروبند کی تعلیمات پر مبنی ہے، وہ بھارت کے عام انتخابات میں ایک پروگرام کے تحت حصہ لے رہی ہے جس کا پہلا آئٹم یہ ہے ”بد قسمتی سے ہو جانے والی تقسیم کا خاتمہ اور ہند وستان کا دوبارہ اتحاد اس کے انتخابی منشور میں جسے کثرت سے تقسیم کیا گیا ہے حتی کہ بعض پاکستانی اخبارات کو بھی بھیجا گیا ہے، دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بھی ایک پارٹی ایسی ہے جو ہندوستان کے از سر نو اتحاد کے لئے کام کر رہی ہے اور اس پارٹی کی طاقت میں دن 4" بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔”ڈان“ نے بھی اپنے اداریے میں عوامی لیگ میں بھارتی ایجنٹ اور تخریبی عناصر کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا جو پاکستان کی قومی وحدت کو تباہ کرنے کے لئے کام کر رہے تھے۔5 حواشی: 1 احراری ترجمان اخبار آزاد لاہور 28 جون 1950ء۔2 رپورٹ تحقیقاتی عدات صفحہ 304۔"3 رپورٹ تحقیقاتی عدالت “صفحہ 277 تا 279۔4 لیمبرٹ آر ڈی صفحہ 56۔ڈان کراچی 6 اپریل 1957ء بحوالہ ”پاکستان میں وفاقیت کی سیاست صفحہ 104-103 متر جم سید راشد علی۔تالیف مہر النساء علی۔ناشر آکسفورڈ یونیورسٹی پر لیس اشاعت 1996ء۔