مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 269 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 269

269 حضرت مسیح موعود آیت وَ الشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاؤں۔(شعراء:225) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شاعر تو اگر مر بھی جاویں تو صداقت اور راستی و ضرورت حقہ کا اپنے کلام میں التزام نہ کر سکیں۔وہ تو بغیر فضول گوئی کے بول ہی نہیں سکتے اور ان کی ساری گل فضول اور جھوٹ پر ہی چلتی ہے۔اگر جھوٹ نہیں یا فضول گوئی نہیں تو پھر شعر بھی نہیں۔اگر تم ان کا فقرہ فقرہ تلاش کرو کہ کس قدر حقائق ودقائق ان میں جمع ہیں۔کس قدر راستی اور صداقت کا التزام ہے۔کس قدر حق اور حکمت پر قیام ہے۔کس ضرورت حقہ سے وہ باتیں ان کے مونہہ سے نکلی ہیں اور کیا کیا اسرار بیمثل و مانندان میں لیٹے ہوئے ہیں تو تمہیں معلوم ہو کہ ان تمام خوبیوں میں سے کوئی بھی خوبی ان کی مردہ عبارات میں پائی نہیں جاتی۔ان کا تو یہ حال ہو تا ہے کہ جس طرف قافیہ ردیف ملتا نظر آیا اسی طرف جھک گئے اور جو مضمون دل کو اچھا لگا وہی جھک ماری۔نہ حق اور حکمت کی پابندی ہے اور نہ فضول گوئی سے پر ہیز ہے اور نہ یہ خیال ہے کہ اس کلام کے بولنے کے لئے کونسی سخت ضرورت در پیش ہے اور اس کے ترک کرنے میں کونسا سخت نقصان عائد حال ہے۔ناحق بے فائدہ فقرہ سے فقرہ ملاتے ہیں۔سر کی جگہ پاؤں، پاؤں کی جگہ سر لگاتے ہیں۔سراب کی طرح چمک تو بہت ہے پر حقیقت دیکھو تو خاک بھی نہیں۔شعبدہ باز کی طرح صرف کھیل ہی کھیل۔اصلیت دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔نادار ، ناطاقت اور ناتواں اور گئے گزرے ہیں۔آنکھیں اندھی اور اس پر عشوہ گری۔ان کی نسبت نہایت ہی نرمی کیجئے تو یہ کہیئے کہ وہ سب ضعیف اور بیچ ہونے کی وجہ سے عنکبوت کی طرح ہیں اور ان کے اشعار بیت عنکبوت ہیں۔ان کی نسبت خداوند کریم نے خوب فرمایا ہے۔یعنی شاعروں کے پیچھے وہی لوگ چلتے ہیں جنہوں نے حق اور حکمت کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ شاعر تو وہ لوگ ہیں جو قافیہ اور ردیف اور مضمون کی تلاش میں ہر ایک جنگل میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔حقانی باتوں پر ان کا قدم نہیں جمتا اور جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔سو ظالم لوگ جو خدا کے حقانی کلام کو شاعروں کے کلام سے تشبیہ دیتے ہیں۔انہیں عنقریب معلوم ہو گا کہ کس طرف پھریں گے۔“ (براہین احمدیہ صفحہ 391-393 حاشیہ)