مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 268
268 تحکام ہے تجھ کو مقام محمود پالسی بھی تری پیچیده تر از زلف ایاز اور لوگوں کی طرح تو بھی چھپا سکتا سکتا ہے پردہ خدمت دیں میں ہوس جاہ کا راز نظر آجاتا ہے مسجد میں بھی تو عید کے دن اثر وعظ سے ہوتی طبیعت بھی گداز ہے دست پرورد ترے ملک کے اخبار بھی ہیں چھیڑ نا فرض ہے جن پر تری تشہیر کا ساز اس پر طرہ ہے کہ تو شعر بھی کہہ سکتا ہے تیری مینائے سخن میں ہے شراب شیر از جتنے اوصاف ہیں لیڈر کے ، وہ ہیں تجھ میں سبھی تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شریک تگ و تاز چه دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد منافقت خدا کی نظر میں کفر سے بھی زیادہ مبغوض ہے۔چنانچہ اللہ جلشانہ کا فرمان مبارک ہے۔كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ۔(الصف: 4) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔کتاب اللہ کے اس واضح فیصلہ کے باوجو دجو لوگ خدائی احکام کے کسی باغی کی اتباع کرتے ہیں ، ان پر قرآن کی یہ آیت چسپاں ہوتی ہے کہ :- وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوَنَ۔(الشعراء :225) شاعروں کی پیروی تو وہی کرتے ہیں کہ جو گمراہ ہیں۔یہ ہے رب محمد کا سر ٹیفکیٹ ان احراری علماء اور ممبران اسمبلی 1974ء کو جنہوں نے سر اقبال جیسے بابی اور اشتراکی شاعر کے بیان پر اپنے مطالبہ اقلیت کی بنیادر کھی۔