مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 259 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 259

259 بایں ہمہ حضرت اقدس نے اپنی آخری سانس تک جہاد القرآن کا سلسلہ پوری قوت وشوکت کے ساتھ جاری رکھا۔چنانچہ فرمایا: ” مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں زبر دست پیشگوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ پڑھنے کے قابل کتاب ہو گی جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی، اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی۔۔۔۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔“73 حضور کی پُر معارف کتاب چشمہ معرفت“ اس موضوع پر تھی جو 15 مئی 1908ء کو شائع ہوئی۔اس کتاب نے پوری تحدی کے ساتھ اعلان کیا۔فرمائی۔”ایسے زمانے میں نئی شریعت نازل ہوتی ہے۔جبکہ نوع انسان پہلے زمانہ کی نسبت بد عقیدگی اور بد عملی میں بہت ترقی کر جائے اور پہلی کتاب میں ان کے لئے کافی ہدایتیں نہ ہوں لیکن یہ امر ثابت شدہ ہے کہ قرآن شریف نے دین کے کامل کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدہ: 4 ناقل) یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے۔اور میں اسلام کو تمہارا دین مقرر کر کے خوش ہو ا۔سو قرآن شریف کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب کچھ قرآن شریف بیان کر چکا ہے۔اب صرف مکالمات الہیہ کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی خود بخود نہیں بلکہ سچے اور پاک مکالمات جو صریح اور کھلے طور پر نصرت الہی کارنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور بہت سے امور غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں وہ بعد تزکیہ نفس محض پیروی قرآن شریف اور اتباع آنحضرت صلی کم سے حاصل ہوتے ہیں۔“74 اسی پر بس نہیں حضور نے اپنے وصال (26 مئی 1908ء) سے صرف چند روز قبل یہ پیشگوئی ” میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے۔مگر میں