مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 258 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 258

258 رہو گے ؟ کیا ایک دن خدا کے حضور میں اس جھوٹے منہ پر لعنتیں نہیں پڑیں گی ؟ اگر آپ لوگ کوئی بھاری صداقت لئے بیٹھے ہیں جس کی نسبت تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے کمال جانفشانی اور عرق ریزی اور موشگافی سے اس کو پیدا کیا ہے اور جو تمہارے گمان باطل میں قرآن شریف اس صداقت کے بیان کرنے سے قاصر ہے تو تمہیں قسم ہے کہ سب کاروبار چھوڑ کر وہ صداقت ہمارے روبرو پیش کرو۔تا، ہم تم کو قرآن شریف میں سے نکال کر دکھلا دیں۔مگر پھر مسلمان ہونے پر مستعد رہو اور اگر اب بھی آپ لوگ۔۔۔۔مناظرہ کا سیدھا راستہ اختیار نہ کریں۔تو بجز اس کے اور کیا کہیں کہ 66 لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔“ حضرت اقدس مسیح موعود نے یہ انعامی چینج اس زمانہ میں دیا جبکہ باب 68 اپنی جعلی شریعت البیان“ کو بالکل ادھورا چھوڑ کر ناکامی اور نامرادی میں قتل ہو چکا تھا اور اس کے وصی میرزا یحی 69 صبح ازل اور میرزا حسین علی 70 ( باب کی طرف سے بہاء اللہ سے ملقب) دونوں نے البیان کو منسوخ قرار دے دیا اور قلمی نسخے خود بابیوں نے تلف کر دیئے۔اس طرح باب اور قرۃ العین طاہرہ نے 1863ء میں تنسیخ قرآن کی جو انتقامی سازش کی تھی، اپنے منطقی انجام تک پہنچی اور مذہب کو بازیچہ اطفال بنانے والے سب کردار بالکل بے نقاب ہو گئے۔علاوہ ازیں ذلت ورسوائی کا غیبی سامان یہ بھی ہوا کہ باب کے دونوں جانشینوں نے ایک دوسرے کا حریف بن کر اپنی اپنی شریعتیں خود تصنیف کر لیں۔چنانچہ صبح ازل نے المستيقظ لکھی اور بہاء اللہ نے الاقدس۔71 باب کے یہ نام لیوا زندگی بھر ایک دوسرے کو دجال کہتے رہے اور کسی کو مرتے دم تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چیلنج قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی۔بہاء اللہ کی وفات کے بعد 1892ء میں اس کا بڑا بیٹا عبد البها عباس آفندی جانشین قرار پایا اور 1921ء میں راہی ملک عدم ہوا۔اسی شخص کے زمانہ میں ڈاکٹر سر اقبال بہائیت کی دہلیز تک پہنچے۔حضرت مصلح موعود نے 1917ء میں عبد البہاء اور دوسرے مذہبی لیڈروں کو للکارا کہ اسلام ہی زندہ ہب۔کوئی دوسرا مذہب اس کے مقابل نہیں ٹھہر سکتا کوئی نہیں جو قبولیت دعا کا نشان دکھلا سکے۔72 مگر کسی نے مرد میدان بننے کی جرات نہیں کی کجا یہ کہ حضرت مسیح موعود کا چیلنج قبول کر سکتا۔الغرض حضرت مسیح موعود نے قرآن مجید کی حقانیت سے متعلق 1883ء میں جو فیصلہ کن چیلنج دیا اسے حضرت مسیح موعود کے یوم وصال 26 مئی 1908 ء تک کوئی بابی یا بہائی لیڈر قبول نہیں کر سکا۔