مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 257 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 257

257 ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے۔“ اسی کتاب میں آپ نے دس ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار دیتے ہوئے اعلان فرمایا کہ "اگر کوئی شخص ایک ذرہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نقص نکال سکے یا بمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرہ بھر کوئی ایسی خوبی ثابت کر سکے جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو طیار ہیں۔“66 نیز تحدی کے ساتھ فرمایا: " آج صفحہ دنیا میں وہ شے جس کا نام تو حید ہے۔بجز امت آنحضرت صلی اللہ علم کے اور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑ ہا مخلوقات کو وحدانیت الہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو ہر یک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لازوال اور غیر مبدل اور اپنی ازلی صفات میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔67 حضرت اقدس نے اس کتاب کے حصہ سوم کے صفحہ 206 پر قرآن کو ناقص سمجھنے والوں (برہمو سماجیوں، بابیوں اور بہائیوں) کو کھلا چیلنج دیا۔جس حالت میں تیرہ سو برس سے قرآن شریف بآواز بلند دعوی کر رہا ہے کہ تمام دینی صداقتیں اس میں بھری پڑی ہیں۔تو پھر یہ کیسا خبث طینت ہے کہ امتحان کے بغیر ایسی عالیشان کتاب کو ناقص خیال کیا جائے۔اور یہ کس قسم کا مکابرہ ہے کہ نہ قرآن شریف کے بیان کو قبول کریں اور نہ اسکے دعوی کو توڑ کر دکھلائیں۔سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے لبوں پر تو ضرور کبھی کبھی خدا کا ذکر آجاتا ہے۔مگر ان کے دل دنیا کی گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔۔۔۔گھر میں بیٹھ کر اس کامل کتاب کو نا قص بیان کرتے ہیں۔جس نے بوضاحت تمام فرما دیا۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي - الجزو نمبر ۶۔یعنے آج میں نے اس کتاب کے نازل کرنے سے علم دین کومرتبہ کمال تک پہنچا دیا۔اور اپنی تمام بہ کمال تک پہنچا دیا۔اور اپنی تمام نعمتیں ایمانداروں پر پوری کر دیں۔اے حضرات کیا تمہیں کچھ بھی خدا کا خوف نہیں؟ کیا تم ہمیشہ اسی طرح جیتے