مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 256 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 256

256 یہ تخیل سراسر بہائیت کی پیداوار ہے جس سے ہم آہنگ ہو کر سر اقبال نے یہ نظریہ پیش کیا :- ”میرا عقیدہ یہ ہے کہ کائنات میں جذبہ الوہیت جاری و ساری ہے۔۔۔۔اس باب میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ قوت ایک اکمل واعلیٰ انسان کے پیکر خاکی میں جلوہ گر ہو گی۔“64 بہائی مورخ مسٹر ایڈورڈ۔جی۔براؤن (Mr۔Edward۔G۔Brown) نے تاریخ ادبیات فارس (A Literary History of Persia) کی چوتھی جلد کے صفحہ 430 پر ڈاکٹر سر اقبال کی تالیف مابعد الطبیعات کے حوالہ سے ان کے نظریہ مذہب بابی سے کلی طور پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔65 مسٹر براؤن کے الفاظ یہ ہیں: "Matu'l-'Arshiyya Masha'ir۔the and Shaykh Muhammad Iqbal is therefore probably right when he says that "the Philosophy of Sadra is the source of the metaphysics of early Babaiism," and that "the origin of the philosophy of this wonderful sect must be sought in the Shi'a sect of the Shaykhis, the founder of which, Shaykh Ahmad, was an enthusiastic student of Mulla Sadra's philosophy, on which he had written several commentaries۔" مذہب اقبال اور تحریک احمدیت کا بنیادی فرق در حقیقت مذہب اقبال کا روح رواں جدید معاشرتی نظام ہے جو امر بہائی کا دوسرا نام ہے۔اس کے برعکس تحریک احمدیت کی بنیاد ہی اس الہامی نظریہ پر ہے کہ :- الْخَيْرُ كُلَّه فِي الْقُرْآنِ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ“ یہ الہام حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ پر 1883ء میں نازل ہوا۔جسے آپ نے اپنی پہلی شہرہ آفاق کتاب ”بر اہین احمدیہ “ (صفحہ 511-513) میں شائع فرما دیا اور اس کا ترجمہ اپنے قلم سے یہ لکھا کہ تمام خیر اور بھلائی قرآن میں ہے۔بجز اس کے اور کسی جگہ سے بھلائی نہیں مل سکتی اور قرآنی حقائق صرف انہیں لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ اپنے