مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 254
254 علمی صاحب کی منافقت کا پردہ تو انہی کے ہاتھوں چاک ہو گیا۔لیکن جناب اقبال کے کمال اخفا کی داد دینا چاہئے کہ وہ عمر بھر روح بہائیت سے سرشار رہنے کے باوجود آخر دم تک مسلم فلاسفر کالبادہ اوڑھے رہے اور اپنے ذو معنی الفاظ ، پہلودار اصطلاحات اور استعارات و مجازات کے ذریعہ اپنی بہائیت کو چھپانے میں کامیاب ہو گئے۔53 سر اقبال کی وفات کے کچھ عرصہ بعد جبکہ پاک وہند میں اقبالیات پر وسیع پیمانہ پر لٹریچر چھپنا شروع ہوا اور سرکاری سطح پر اقبالیات کی اشاعت کی سر پرستی شروع ہو گئی تو بہائی حلقے جو اب تک مصلحتاً خاموش نظر آتے تھے ، یکا یک میدان میں آگئے۔اور بابیت اور بہائیت سے اقبال کی پوشیدہ والہانہ عقیدتوں کی پوری داستان پبلک کے سامنے رکھ دی۔اقبال فرمایا کرتے تھے۔پوچھتے کیا ہو مذہب اقبال گنہ گار بو ترابی ہے 54 لیکن اب انہیں ”پیغمبر گلشن “ اور ”رسول چمن “55 بنایا جا چکا تھا اس لئے ان کے پرستاروں کو قرۃ العین طاہرہ کی زلفوں کا اسیر بنا کر بآسانی بہائیت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز کیا جاسکتا تھا اور چونکہ سر اقبال 1935ء میں تحریک احمدیت کے مقابل بہائیت کو دیانت دار ہونے کا اعلانیہ سر ٹیفکیٹ دے چکے ہیں اس لئے بہائیوں کا ختم نبوت محمدیہ 56 ہی کا نہیں قرآنی شریعت کے خاتمہ کا جشن اقبالیات کی آغوش میں منانے کی راہ بھی ہموار ہو گئی۔سر اقبال فرماتے ہیں: ”جب تصوف فلسفہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور عجمی اثرات کی وجہ سے نظام عالم کے حقائق اور باری تعالیٰ کی ذات کے متعلق موشگافیاں خیال کر کے کشفی نظریہ پیش کرتا ہے تو میری روح اس سے بغاوت کرتی ہے۔57 اقبالیات کے عمیق مطالعہ سے یہ راز طشت از بام ہو جاتا ہے۔سر اقبال کی بغاوت کا آغاز 1901ء سے ہوا جبکہ انہوں نے دنیا کو جدید معاشرتی نظام سے متعارف کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔چنانچہ آپ نے ”اسرار خودی“ کے انگریزی مترجم اور کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نکلسن کے نام 24 فروری 1921ء کو ایک خصوصی مکتوب لکھا۔58 میں بیس سال سے دنیا کے افکار کا مطالعہ کر رہا ہوں اور اس طویل عرصے نے