مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 253 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 253

253 دور نبوت نے دی اور جو اپنا کام کر کے ختم ہو گیا۔اب نبوت کے نام سے کوئی نہیں آئے گا۔تفصیل سے یہ بیان ( اقبال کی موجودگی میں ) دیا گیا۔“جناب مولانا ظفر علی خان صاحب نے کہا: ”ڈاکٹر صاحب بہائیت تو بڑا علمی سلسلہ ہے!“ اس پر ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا: ”میں تو آپ سے پہلے ہی کہتا تھا کہ بہائیت ایک مستقل علمی امر ہے۔“ اور میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ ”جو بات انہوں نے کہی ہے یہ تقریب وہی ہے جو میں نے اپنے اس قصیدہ میں لکھی ہے جو سیالکوٹ میں پڑھا تھا اور آپ نے اسے دکن ریویو میں شائع کیا تھا 49 اور ڈاکٹر صاحب نے ایک شعر بھی پڑھا جس میں اس قسم کے خیال کا اظہار کیا گیا تھا کہ نبوت اپنا کام ختم کر چکی اور اب دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔“50 بہائی اصول کے عین مطابق سر اقبال کا اخفاء جیسا کہ میرزا حیدر علی اصفہانی (متوفی 1920 ء) نے اپنی کتاب بہجۃ الصدور صفحہ 83 (مطبوعہ بمبئی مارچ 1914ء) میں لکھا ہے۔بہاء اللہ (1892-1817ء) کی بنیادی ہدایت ہے کہ اپنا مذہب چھپائے رکھو۔اس بہائی اصول کے مطابق سر اقبال نے اپنا بہائی مذہب چھپائے رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔اس ضمن میں انہوں نے اپنے جگری دوست اور گہرے راز دان سید محفوظ الحق علمی صاحب مبلغ بہائیت (1978-1894ء) کے اس تبلیغی کارنامہ کو مشعل راہ بنایا ہے کہ وہ ”باب الحیات“ کے اردوایڈیشن کی اشاعت (1908ء) کے معاً بعد جناب میرزا محمود زرقانی سے متاثر ہو کر خفیہ طور پر بہائی ہوئے۔بعد ازاں وہ جولائی 1918ء سے مارچ 1924ء تک احمدیت کالبادہ اوڑھ کر منافقانہ طور پر بہائی خیالات پھیلاتے رہے 51 اور جب تک یہ ناپاک سازش بے نقاب نہیں ہو گئی وہ انڈر گراؤنڈ بہائیت کا پوری گرم جوشی سے پر چار کرتے اور بہائی ہونے والوں کو مخفی رہنے کی تلقین کرتے رہے۔انہوں نے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بیان دیا کہ میں بہائی ہوں۔شریعت جدیدہ کا ظہور ہو چکا ہے۔رمضان کے اسلامی روزے اب فرض نہیں رہے اور کعبہ کی بجائے عکہ قبلہ ہے۔علمی صاحب نے بعد میں اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے کئی داستانیں وضع کر لیں مگر تحقیقاتی کمیشن کو انہوں نے اصل واقعہ صرف یہی بتایا کہ وہ کہلاتے احمدی رہے مگر خفیہ طور پر بہائیت کی تائید میں تین چار سال سے ایک کتاب لکھنے کی تیاری کر رہے تھے۔52