مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 245 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 245

245 ہوا تھا۔میں نے اسے بھی دیکھا ہے۔وہ اکثر علامہ کے ہاں آتے تھے اور لاہور میں ٹمپل روڈ پر رہتے تھے۔مگر شکل وصورت میں وہ سکھ تھے۔“30 پروفیسر پر یتیم سنگھ 39 ٹمپل روڈ لاہور سے ایک ہفتہ روزہ انگریزی اخبار ”دی بہائی “ شائع کرتے تھے۔اس کا پہلا شمارہ 7 جنوری 1931 کو شائع ہو اتھا۔خیال ہے کہ یہ اخبار وہ اپنے دوست علامہ اقبال کو ضرور بھیجا کرتے ہوں گے۔مرزا محمود زرقانی سے علامہ اقبال کی ملاقات کا حال دیپ چند کھیا نڑا یوں لکھتے ہیں : ”مرزا محمود زرقانی کو 1900ء میں حضرت عبد البہاء نے پنجاب میں امر بہائی کا پیغام دینے کے لئے بھیجا تھا۔پروفیسر پریتم سنگھ سیالکوٹ کے ایک حج کے بیٹے تھے اور علامہ اقبال کے دوست تھے۔وہ ایک دن مرزا محمود زرقانی سے ان کے مطب میں ملے تو علامہ اقبال کو بھی اس بارے میں بتایا۔اس پر علامہ اقبال کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ وہ اس ایرانی عالم وادیب سے ملاقات کریں۔چنانچہ یہ دونوں دوست مرزا محمود زرقانی کے پاس گئے اور پھر مرزا محمود زرقانی سے 1905ء تک ملاقاتیں ہوتی رہیں۔“31 قیام لندن کے دوران ترک اسلام کا دستاویزی ثبوت حقیقت یہ ہے کہ لندن پہنچتے ہی بہائی مبلغ مورخ ڈاکٹر ای جی براؤن نے محمد اقبال صاحب کو اسلام سے متنفر کر دیا تھا جس کا دستاویزی ثبوت ان کے قلم کا وہ مکتوب ہے جو انہوں نے لاہور سے 7 ستمبر 1921ء کو لکھا جس میں انکشاف کیا کہ :- ”اس زمانہ میں سب سے زیادہ بڑا دشمن اسلام اور اسلامیوں کا نسلی امتیاز و ملکی قومیت کا خیال ہے۔پندرہ۔۔۔۔برس ہوئے جب پہلے پہل اس کا احساس ہوا۔اس وقت میں یورپ میں تھا اور اس احساس نے میرے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا کر دیا۔“ اگلا فقرہ نہایت معنی خیز اور مغالطہ آفرینی کا فلسفیانہ شاہکار ہے۔فرماتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان کر دیا۔32 اگر تاریخ کا کوئی ادنی طالبعلم بھی پہلے فقرہ کی روشنی میں اس آخری فقرہ کے لفظ ”مسلمان کا گہری نظر سے مطالعہ کرے گا، اس پر فورا کھل جائے گا کہ یہ لفظ یقینا مسلمانوں کی اس قوم پر اطلاق