مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 244
244 تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا۔28 درج ذیل ضروری اقتباسات واقعات اسی مقالہ سے ماخوذ ہیں جن کی تردید کی آج تک پاک و ہند کے کسی اقبال شناس ادارے یا شخصیت کو جرات نہیں ہو سکی۔"1900ء میں ایک امریکن بہائی سڈنی اسپراگ لاہور شہر میں بسلسلہ تبلیغ قیام پذیر رہے۔1900ء میں ایران کے معروف بہائی مبلغ اور عالم، مرزا محمود زرقانی (وفات 1927) لاہور تشریف لائے اور 1908ء تک یہاں مقیم رہے۔مرزا صاحب طبیب بھی تھے اس لئے انہوں نے انار کلی میں اپنا مطب قائم کر لیا تھا۔علامہ اقبال بھی ان دنوں لاہور میں رہتے تھے۔چنانچہ 1902ء میں پروفیسر پریتم سنگھ (1959ء-1881ء) کے ذریعے علامہ اقبال کی ملاقات مرزا محمود زرقانی سے ہوئی اور پھر یہ دوستی 1925 تک قائم رہی۔29 بہائی دوست جناب مهربان اختری (پشاور) کا بیان ہے : ” میں 1944 میں لاہور گیا اور وہاں بیڈن روڈ پر ریستوران چلاتا رہا۔پروفیسر پریتم قیام پاکستان کے بعد سات ماہ تک لاہور میں ہی رہے۔جناب پروفیسر مجھ سے بیان کیا کرتے کہ وہ کبھی مرزا محمود زرقانی اور کبھی سید محفوظ الحق علمی کے ہمراہ اقبال سے ملاقات کرتے۔علامہ اقبال بڑے شوق سے اپنا فارسی کلام مرزا محمود زرقانی کو سناتے اور آپ جہاں ضروری ہو تا، اصلاح فرمایا کرتے تھے۔اس طرح مرزا محمود کی دوستی علامہ اقبال سے 1901ء سے لے کر 1925 ء تک برقرار رہی۔“ افسوس ہے کہ تعصب کی وجہ سے کسی ماہر اقبالیات نے ابھی تک اس موضوع ہ نہیں لکھا اور ان ملاقاتوں کا ذکر بھی نہیں کیا۔یہ بتانا ضروری ہے کہ پر وفیسر پر یتیم سنگھ علامہ اقبال کے ہم شہری اور ہم عمر تھے۔ان کے آپس میں دوستانہ روابط عمر بھر قائم رہے۔پروفیسر مرحوم بر صغیر کے معروف ترین بہائی مبلغ، عالم اور صحافی تھے۔انہوں نے علامہ اقبال کو امر بہائی کا مفصل تعارف کروایا تھا۔پروفیسر پریتم سنگھ 1905ء میں ایچی سن کالج میں لیکچر ارر ہے اور آخری عمر میں دیال سنگھ کالج میں پروفیسر رہے۔ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی راقم کے نام اپنے خط میں تحریر کرتے ہیں: ” مجھے پروفیسر پریتم سنگھ کا علم ہے۔میں ان سے ملا ہوں۔وہ سیر پانیک آدمی تھے۔مگر کٹر بہائی تھے۔انہوں نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ایک ایرانی لڑکی کو اپنایا