مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 243 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 243

243 شریعت کی ضرورت ہے۔وہ خود آنحضرت صلی اللہ یکم کی خبر کے مطابق ہر اعتبار سے ”علماء ھم میں شامل تھے۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ منظر علماء سوء کو نشانہ تضحیک بنا کر اپنی تفریح طبع کا سامان کرتے اور عامتہ المسلمین کا بھی دل بہلاتے رہے۔بھولے بھالے عقیدت مندوں نے ان تابڑ توڑ حملوں کا پر جوش استقبال کیا اور یقین کیا کہ قرون مظلمہ کی ملائیت کی باقیات سے تو ہمیں نجات مل رہی ہے لیکن یہ سب نمائش تھی کیونکہ ان کی پوری زندگی ملائیت میں ہی ڈھلی ہوئی تھی اور وہ نہایت سنگدلی سے تکفیر کی شمشیر کا بے دریغ استعمال کر رہے تھے۔چنانچہ یہ ابوالکلام آزاد ہی تھے جنہوں نے کانگرس کی خود کاشتہ مجلس احرار کی ہمیشہ سر پرستی کی اور انہیں کانگرس کی طاقت اور سیاست سے مسلح کر کے احمدیت کے پاک جسم میں خنجر گھونپ دیا اور خود پردہ کے پیچھے اپنے گماشتوں کی انسانیت سوز کاروائیوں کا تماشہ کرتے رہے اور جب احمدیوں کو مسلم معاشرہ سے کاٹ پھینکنے کا منصوبہ عروج پر پہنچاتو علامہ اقبال“ جو اسی تاک میں بیٹھے تھے، یکا یک میدان میں آگئے اور کروڑوں احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا قانونی اور سیاسی حربہ احرار کو تھما دیا اور کارل مارکس، نطشے، سپینسر ، گوئٹے، ہیگل، بلکہ ابلیس کے مشیروں سے بھی جو فلسفہ سیکھا تھا، اس کو احمدیوں کے خلاف استعمال کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ان تمام حرکتوں کا واحد مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو اللہ جلشانہ کے آستانے سے ہٹا کر باب، بہاء اللہ اور کارل مارکس کا پجاری بنا دیا جائے اور ان کے قبلہ کا رخ مکہ کی بجائے ماسکو اور عکہ کی طرف ہو جائے۔اس مقصد کی تکمیل کے لئے 1929ء سے 1974ء تک جماعت احمدیہ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے اور اسے کچلنے کے لئے عالمگیر سطح پر ہر جائز اور خلاف انسانیت حربہ استعمال کیا گیا۔لیکن جیسا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا، خلافت کی برکت سے سارے خوف امن میں تبدیل ہو گئے اور ہر بڑی سے بڑی سازش خدا تعالیٰ کے آسمانی سلسلہ کی ترقی کو روکنے میں ناکام و نامر اور ہی۔میں سمجھتا ہوں مستقبل کا مورخ جب ماضی کے دریچوں سے انیسویں صدی کے ان واقعات کو جھانک کر قلم اٹھائے گا تو اسے لکھنا پڑے گا کہ یہ محض سچے وعدوں والے خدا کا فضل اور نظام خلافت ہی کی برکت تھی کہ کشتی احمدیت مخالفت کے مہیب عالمی طوفانوں کو چیرتی ہوئی پوری شان و شوکت سے ساحل مراد تک پہنچ گئی۔سر اقبال کی بہائیت سے بے پناہ عقیدت جناب ڈاکٹر صابر آفاقی صاحب نے 1995ء میں ”اقبال اور امر بہائی“ کے عنوان سے ایک