مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 238
238 یہ جواب صرف بابی یا بہائی دے سکتے ہیں۔کوئی مسلمان بقائمی ہوش و حواس ایسا جواب نہیں دے سکتا کیونکہ آنحضرت صلی ا علم کی یہ حدیث صحاح ستہ کی کتاب ابو داؤد ”کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن الماۃ میں موجود ہے اور تمام محدثین امت نے اس کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔12 یہی نہیں تیرھویں صدی تک کے مجددین کی فہرست اسلامی لٹریچر میں موجود ہے۔13 ان مجد دین میں سے بعض نے تو اللہ تعالیٰ کے الہام سے دعوئی مجدد کیا۔چنانچہ امام الہند حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں: ” البسنى الله سبحانه خلعة المجددية حين انتهت بي دورة الحكمة۔۔علمنی ربی جل جلاله ان القيامة مد اقتربت والمهدى تهياء للخروج 14" جب مجھ پر دور حکمت کی انتہاء ہو گئی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مجھے خلعت مجد دیت پہنائی۔مجھے میرے رب جل جلالہ نے یہ بھی علم دیا کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور مہدی کا ظہور ہونے والا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اسی تصنیف لطیف میں ارشاد فرماتے ہیں: وصیت دیگر » در حدیث آمده است من ادرک منکم عیسی ابن مریم فليقرء منى السلام 15 ایس فقیر آرزوئے تمام دارد که اگر ایام حضرت روح الله را در یابد اول کسی که تبلیغ سلام کند من باشم و اگر من آنرانه در یافتم هر کسی که از اولاد یا اتباع این فقیر زمان بهجت نشان آنحضرت در یابد حرص تمام کند در تبلیغ سلام تاکتی به آخره از کتائب محمد یہ ماباشیم 16" ترجمہ: ایک اور وصیت حدیث میں آیا ہے کہ تم میں سے جو عیسی ابن مریم کو پائے اسے میر اسلام پہنچانا۔اس فقیر کی انتہائی آرزو اور تمنا یہ ہے کہ اگر حضرت روح اللہ کا زمانہ مجھے نصیب ہو تو سب سے پہلے آنحضرت علی علیم کا سلام پہنچانے کی سعادت مجھے ملے۔لیکن اگر میں یہ زمانہ نہ پاسکوں تو میری اولاد یا اتباع میں سے جو بھی آں حضرت (مسیح