مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 215 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 215

215 خواب میں دیکھا۔آپ دو اشخاص جو وہاں کھڑے ہیں ان کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ مجھے ان دو شخصوں کے شر سے خلاصی دے۔سلطان نے فراست سے جان لیا کہ ہو نہ ہو آج مدینہ منورہ میں کوئی امر غریب پیدا ہوا ہے جس کو پہنچنا چاہئے۔سلطان اسی وقت آخر شب کو خفیہ طور پر اپنے ہیں خواص اور بہت کچھ مال ومتاع ساتھ لے کر مدینہ طیبہ کو روانہ ہو پڑا۔سولہ دن کے عرصہ میں شام سے مدینہ تک پہنچ گیا۔ان دو ملعونوں کی کھوج میں آتے ہی لگ گیا۔اس نے صدقات انعام و اکرام کو ان کے حاضر ہونے کا وسیلہ بنایا اور حکم دیا کہ ہر خاص و عام اہل مدینہ میں سے اس سے انعام واکرام حاصل کریں مگر پھر بھی وہ دو نا مطبوع اشکال دکھائی تک بھی سلطان کو نہ دیں جو بادشاہ نے خواب میں دیکھی تھیں۔سلطان نے آخر کار یہ بھی پوچھا کہ آیا کوئی ایسا شخص بھی رہ گیا ہے کہ جس نے اس سے انعام واکرام حاصل نہ کیا ہو ؟ لوگوں نے کہا رہا تو ایسا کوئی نہیں مگر دو مغربی کہ نہایت صالح، سخی، جواد اور عفیف ہیں جو شب وروز اپنی جگہ پر عبادت کرتے رہتے ہیں اور کسی سے اختلاط نہیں رکھتے۔اپنے حجرے سے بہت کم باہر نکلتے ہیں۔سلطان نے ان کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔وہ لوگ لائے گئے۔سلطان دیکھتے ہی پہچان گیا کہ یہ وہی دو شخص ہیں جن کو سرورِ انبیاء صلی ا و ہم نے خواب میں دکھایا ہے۔پوچھا تم کہاں رہتے ہو۔انہوں نے کہا کہ حجرہ شریف کے قریب ایک رباط میں۔یہ مقام اب بھی روضہ مبارک کی غربی جانب واقع ہے اور ویران پڑی ہے۔اس کی شباک دیوار مسجد میں رکھی ہے۔سلطان انہیں وہیں چھوڑ کر اس مکان میں گھس گیا جس کا انہوں نے نشان دیا تھا۔کہتے ہیں وہیں سلطان نے ایک قرآن پاک کو طاقچہ میں پڑا ہوا پایا۔کچھ کتابیں وعظ و نصیحت کی کچھ مال ایک طرف ڈھیر لگا ہے جو فقرائے مدینہ پر صرف کیا کرتے تھے اور ان کی خواب گاہ پر ایک چٹائی پڑی ہے۔سلطان شہید نے اس چٹائی کو اٹھایا تو ایک سرنگ حجرہ مبارک کی طرف کھدی ہوئی دیکھی اور ایک طرف کو ایک کنواں کھد ادیکھا جس میں سرنگ کی مٹی بھرتے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ ان کے پاس چمڑے کے دو تھیلے تھے جن میں مٹی بھر کر بقیع کے ارد گرد رات کو ڈال آتے تھے۔سخت جھڑ کیوں اور کافی سزا کے بعد انہوں نے بتلایا کہ وہ نصرانی ہیں اور نصاریٰ نے انہیں مغربی تجاج کے لباس