مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 210
210 دے رہے تھے۔”اسلامی سوشلزم کی اصطلاح سب سے پہلے ایک داغستانی ملا تر کو حاجی نے گھڑی۔شیشان مسلمانوں میں ملا سلطان، کبر دینی ترکوں میں ملاکخانوف اور دولگا کے تاتاریوں میں ملار سولوف اسلامی سوشلزم کا پرچم اٹھائے بالشویکوں کی حمایت کر رہے تھے۔آزادی کے چند سانس مسلمانوں نے چھ سے آٹھ مہینے مذاکرات میں ضائع کر دیئے تھے۔اب کہ حالات نے ایک نئی کروٹ لے کر ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔وہ ہر جگہ خود مختاری کا اعلان کر رہے تھے۔قازقستان نے جولائی 1917ء میں خود مختاری کا اعلان کیا۔آذربائیجان نے ماورائے قفقاز کے ساتھ ستمبر 1917ء میں وفاقی جمہوریہ قائم کی۔پھر نو مہینے بعد اختلافات کی بنا پر الگ ہو کر مکمل آزادی کا اعلان کر دیا۔نومبر 1917ء میں جمہوریہ کریمیا وجود میں آگئی۔11 دسمبر کو ترکستان نے آزادی کا اعلان کر دیا اور خوفتند کو دار الحکومت قرار دیا۔یہ وہ اقدام تھے جو انہیں فروری 1917ء میں زار شاہی کا تختہ الٹنے کے فوراً بعد الگ الگ نہیں (جیسا کہ اب انہوں نے کیا تھا) متحدہ طور پر کرنا چاہئے تھا۔اس وقت روسی آپس میں الجھے ہوئے تھے۔مسلمانوں کو اپنی نوزائیدہ ریاست کو مستحکم اور بیرونی دنیا سے روابط قائم کر کے اس کے تحفظ کا سامان کرنے کے لئے خاصا وقت مل جاتا۔لیکن ٹکڑوں میں بٹے ، انہوں نے وقت ہاتھ سے کھو دیا۔اب کہ بالشویک فیصلہ کن قوت بن کر بر سر اقتدار آگئے تھے اور ملک پر ان کی گرفت روز بروز مضبوط ہوتی جارہی تھی۔مسلمان علاقوں کی طرف سے آزادی کے اعلانات ان کی دبی اور کچلی ہوئی آرزوئے آزادی کا اظہار تو ضرور تھے لیکن صحیح وقت کے ضیاع کے سائے ان ریاستوں پر پہلے ہی روز منڈلا رہے تھے۔بالشویکوں نے آٹھ نوماہ کے عرصے میں مسلمانوں میں ہر جگہ اپنا حامی عنصر پیدا کر لیا تھا جس میں مذہبی رہنما پیش پیش تھے۔مسلمان علاقوں میں آباد روسی تو ہر حال میں پیٹروگراڈ کے ساتھ تھے چاہے وہاں کوئی بھی حکمران ہو تا۔چنانچہ ان دونوں عناصر نے اپنے ہتھکنڈوں سے کہیں بھی استحکام نہ ہونے دیا۔اور پھر جب روسی فوجوں نے ایک بار پھر ان