مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 203 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 203

203 جماعت احمد یہ کوسب سے بڑی روک اور سدِ راہ یقین کرتے تھے۔اس لئے ان کا قطعی فیصلہ تھا کہ احمدیوں کو جلد جلد دوسرے مسلم معاشرے سے کاٹ پھینکنا ضروری ہے تا مسلمانان ہند کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ بے جان ہو کر رہ جائے اور انگریز پر واضح ہو جائے کہ ملک بھر کی واحد پارٹی صرف آل انڈیا نیشنل کانگرس ہے جسے انگریزوں کو اپنا اقتدار سونپ کر ملک چھوڑ دینا ہو گا۔سر اقبال جیسے سوشلسٹ اور انقلابی شاعر جو صرف اشارہ کے منتظر تھے، یکا یک جماعت احمدیہ کے خلاف میدان میں کود پڑے اور احراری مطالبہ کی تائید میں پر زور مضامین لکھے اور ساتھ ہی اپنے گہرے سوشلسٹ دوست پنڈت نہرو کو بذریعہ مکتوب لکھا کہ احمدی ہندوستان اور اسلام دونوں کے مخالف اور غدار ہیں۔یہ بالواسطہ طور پر اُن کی مخالف احمدیت ایجی ٹیشن کو زبر دست خراج تحسین تھی جس سے انہیں مزید جرات دلانا مقصود تھا کہ آپ اپنی سکیم زور وشور سے جاری رکھیں۔ہم دل وجان سے آپ کے ساتھ ہیں۔اس ذو معنی فقرہ کے صاف معنی یہ تھے کہ سوشلزم اسلام ہی کا دوسرا نام ہے مگر احمدی اسے گوارا نہیں کر سکتے۔اور چونکہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ ہیں اور ہندوستان کی آزادی کے کانگرسی تصور کے خلاف نبرد آزما ہیں اس لئے وہ ملک کے بھی غدار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اقبال کی وفات کے بعد 1944ء میں قائد اعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس لاہور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے جو قرار داد عبد الحامد بدایوانی کی طرف سے پیش کی گئی وہ رڈی کی ٹوکری میں ڈال دی تو احراری لیڈروں کی قائد اعظم کے خلاف آتش بغض و عناد شعلے بن کر بھڑک اٹھی اور انہوں نے مسلمانان ہندوستان کو تحریک پاکستان سے برگشتہ کرنے کے لئے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ جناح صاحب قادیانیوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔24 اقبال اور قائد اعظم کا بنیادی اختلاف قائد اعظم کے دست راست، تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما اور چوٹی کے سیاستدان جناب غلام مرتضیٰ (جی۔ایم۔سید) قائد اعظم کے قوم پرست خیالات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: وہ مذہب کو سیاست سے علیحدہ رکھنے کے حامی تھے۔مذہب کو افراد کے ذاتی عقیدے سے متعلق سمجھتے تھے۔۔۔۔اس کا ثبوت پاکستان بننے کے بعد اُن کی آئین ساز اسمبلی میں کی ہوئی پہلی تقریر سے ملتا ہے۔اس کے خاص حصے نیچے دیئے جاتے