مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 202
202 آپ ہم کو کیوں ہندوؤں کا غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جنہوں نے کانپور، مرزاپور، بنارس، آگرہ وغیرہ مقامات میں خدا کے گھر کی توہین کی،کلام پاک کو جلایا، مسلمان بھائیوں کے خون کی ندیاں بہا دیں اور عصمت مآب بہنوں کی درندوں کی طرح عصمت دری کی۔معذور بوڑھوں کو لاٹھیوں سے مار مار کر ٹھنڈا کر دیا اور شیر خوار بچوں کو جانوروں کی طرح چھروں سے حلال کر دیا۔آخر ان کو مارنے کے بعد لوٹ بھی لیا اور ان کے گھروں کو بھی آگ لگا دی۔آہ افسوس صد ہزار افسوس۔مولانا کے پٹ جانے کا اندیشہ یہاں تک تقریر ہونے پائی تھی کہ عوام بے صبر ہو گئے اور جلسے میں حد درجے کا جوش اور بد نظمی پیدا ہو گئی۔چاروں طرف سے کانگرس بر باد، مخلوطی ظفر علی مردہ باد کے نعروں نے ضمیر فروش خود غرضوں کو خوفزدہ کر دیا اور ہر طرف سے مولانا پر گالیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔۔۔۔ہر ایک مسلمان پر غیظ و غضب میں ایک دیوانگی کا عالم چھایا ہوا تھا۔اگر مولانا اپنے ضمیر فروش ہوا خواہوں کے ساتھ چلے نہ جاتے تو خدا جانے ان کی اور ان کا ساتھ دینے والوں کی کیا گت بنتی۔22 فخر ملت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی اسلامی خدمات آل انڈیا نیشنل کانگرس اور ان کے احراری ایجنٹوں کی نگاہ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی تھیں۔اس لئے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس دہلی میں آپ کے خطبہ صدارت کے موقع پر شرمناک غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا۔احرار کا نفرنس میں آپ کے خلاف بھی قرار داد پیش کی گئی کہ انہیں مسلم نمائندہ کی حیثیت سے وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر نہ بنایا جائے۔یہ قرارداد ابو الکلام آزاد صاحب کے کانگریسی دوست اور سوشلسٹ انقلابی مولوی حسین احمد مدنی دیوبندی نے پیش کی۔23 ان دونوں قرار دادوں سے احرار کی تبلیغ کا نفرنس کے کانگریسی مقاصد پبلک کے سامنے پہلی بار گھل کر سامنے آگئے۔اور ثابت ہو گیا کہ اس خالص سیاسی اجتماع کو ” تبلیغ کا نفرنس“ سے موسوم کرنا محض ڈھونگ تھا جس کے پیچھے صرف پنڈت جواہر لال نہرو اور آل انڈیا نیشنل کانگرس کے انتہا پسند اور سوشلسٹ ہندو ممبروں کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کار فرما تھی۔جو ”رام راج“ کے قیام کے راستے میں