مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 201 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 201

201 خاں کی جور پورٹ انقلاب 11 ستمبر 1931ء میں چھپی۔اس کا ایک حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔”شام کو محمد علی میدان میں مولانا نے مذہبی تقریر کی۔دوران تقریر میں پہلو بدلتے ہوئے آپ نے کہا کہ اگر ہند کو آزادی ملے گی تو میں جھنڈالے کے سب سے آگے ہوں گا اور میرے بعد مہاتما گاندھی اور پھر جواہر لال نہرو۔“ ” جلسہ کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ شب کو محمد علی ہال میں ٹھیک ساڑھے نو بجے مولانا کا وعظ ہو گا۔۔۔۔مولانا نے وعظ میں مہاتما کی زبر دست تعریفیں کیں جس پر فساد ہونے کا احتمال تھا لیکن خدا نے رحم کیا کہ مسلمانوں میں خونریزی ہوتے ہوتے رہ اسی روز کانگرس کمیٹی کی طرف سے اشتہار کے ذریعہ اعلان کیا گیا کہ ڈیڑھ بجے محمد علی میدان میں مولانا کا انگریزی لیکچر ہو گا۔۔۔۔جلسے کے صدر رضوی صاحب تھے جو مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے خادم ہیں۔جلسہ میں ہند ورضاکار بھی تھے۔ایک ہند و نے کھڑے ہو کر ایڈریس پیش کیا جس کا جواب دینے کے لئے مولانا کھڑے ہی ہوئے تھے کہ چاروں طرف سے شوکت علی زندہ باد کے نعروں نے خاص کر مولانا اور ان کے ننگ قوم ہوا خواہوں کے ہوش اڑا دیئے۔ہجوم میں سے ایک نوجوان موسوم بہ محمد یعقوب صدر سے اجازت لے کر اسٹیج پر جا کر کھڑا ہوا اور مجمع کو مخاطب کر کے کہا کہ حضرات ذرا خاموش ہو جائیے! میں مولانا کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔جب سامعین کچھ خاموش ہو گئے۔صاحب موصوف نے دلی جوش ضبط کرتے ہوئے نہایت موثر پیرائے میں تقریر شروع کی اور مولانا کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ مولانا! آپ کی توہین منظور نہیں۔ہمارے دل آپ کی خدمات ملی کی قدر کرتے ہیں۔آپ نے فارسی اور اردو کی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں اور آپ ہی نے مسلمانان ہند میں پہلے پہل بیداری کی روح پھونکی تھی۔اس کا شکریہ، لیکن آج کل جو روش آپ نے اختیار کی ہے وہ مسلمانوں کے لیے ناکارہ اور ناقابل برداشت ہے۔مولانا آپ کو کیا ہو گیا ہے جو آپ 8 کروڑ غریب مسلمانوں کو بے بسی کی حالت میں چھوڑ کر 32 کروڑ دولت مند ہندوؤں کا ساتھ دے رہے ہیں اور ہم کو بھی ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہنے کی ترغیب دلا رہے ہیں ؟ مولانا