مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 193 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 193

193 میں پہنچ بنے بیٹھے رہیں تاکہ وہ موجودہ سیاسی نظام کو قائم رکھیں اور ان کے مستقل حقوق کی حفاظت کرتے رہیں۔نو آبادیات کے درجے پر زور دینے میں اصل مصلحت یہی تھی۔ایک بار ایک مشہور اعتدال پسند لیڈر مجھ سے اس بات پر خفا ہو گئے کہ میں نے برطانوی حکومت سے معاملہ کرنے کے لئے یہ لازمی شرط قرار دی کہ برطانوی فوج ہندوستان سے فور ہٹا لی جائے اور ہندوستانی فوج جمہور ہند کی نگرانی میں دے دی جائے۔انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر خود برطانوی حکومت بھی اسے منظور کر لے تب بھی میں اس کی انتہائی مخالفت کروں گا۔وہ قومی آزادی کی اس لازمی شرط کے مخالف کچھ اس وجہ سے نہیں تھے کہ موجودہ حالات میں اس کا پورا ہونا نا ممکن ہے۔بلکہ وہ سرے سے اسے ناپسند کرتے تھے۔شاید اس کا ایک سبب یہ بھی ہو کہ انہیں بیرونی حملے کا خوف تھا اور وہ چاہتے تھے کہ بر طانوی فوج ہماری حفاظت کے لئے موجودرہے۔قطع نظر اس بحث کے کہ بیرونی حملے کا امکان ہے یا نہیں ، یہ بات بجائے خود ہر غیرتمند ہندوستانی کے لئے باعث شرم ہے کہ اپنی حفاظت کی درخواست دوسروں سے کی جائے۔مگر میرے خیال میں ہندوستان میں برطانوی قوت قائم رکھنے کی خواہش بیرونی حملے کے خوف پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کی ضرورت اس وجہ سے محسوس کی جاتی ہے کہ وہ مستقل حقوق کے مالکوں کو خود ہندوستانیوں سے یعنی خالص جمہوریت سے اور عام لوگوں کے غلبے سے بچائے۔غرض گول میز کانفرنس کے ہندوستانی نمائندے یعنی نہ صرف وہ لوگ جو کھلے ہوئے رجعت پسند اور فرقہ پرست تھے بلکہ وہ بھی جو اپنے آپ کو ترقی پسند اور قوم پرست کہتے تھے ، برطانوی حکومت کے ساتھ بہت سی مشترک اغراض رکھتے تھے “10 پنڈت جی نے گول میز کانفرنس میں شامل مسلم زعماء پر فرقہ پرست، دشمن وطن اور رجعت پسند ہونے کی پھبتی ہی نہیں کسی بلکہ نہایت بے حجابی سے مسلم قومیت کا بھی جی بھر کے مذاق اڑایا۔چنانچہ لکھا۔مسلم قوم کا تخیل تو صرف چند لوگوں کی من گھڑت اور محض پرواز خیال ہے۔اگر اخبارات اس کی اس قدر اشاعت نہ کرتے تو بہت تھوڑے لوگ اس سے واقف