مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 179 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 179

179 یہی وہ اولین محافظ ختم نبوت تھے جنہیں شمس العلماء کا خطاب ملا اور دربار دہلی میں انگریزی حکومت کے میزبان بنے اور انہی کی تحریک پر وہابی کہلانے والوں کو سرکاری کاغذات میں اہلحدیث لکھا جانے لگا۔یہی صاحب تھے جنہوں نے برطانوی حکومت کو خبر دار کیا کہ :- گور نمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے۔ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی 18" سے نہیں پہنچا۔“ اسی طرح مولوی کرم دین صاحب آف بھیں نے انگریزی حکومت کو انتباہ کرتے ہوئے لکھا گور نمنٹ کو اپنی وفادار مسلمان رعایا پر اطمینان ہے۔اور گور نمنٹ کو خوب معلوم ہے کہ مرزا جی جیسے مہدی مسیح و غیرہ بننے والے ہی کوئی نہ کوئی آفت سلطنت میں برپا کیا کرتے ہیں۔۔۔۔مرزا جی نے تو مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ مهدی و مسیح کا یہی زمانہ ہے اور قادیان ضلع گورداسپور میں وہ مہدی و مسیح بیٹھا ہوا ہے۔وہ کسر صلیب کے لئے مبعوث ہوا ہے تاکہ عیسویت کو محو کر کے اسلام کو روشن کرے اور یہ بھی بر ملا کہتا ہے کہ خدا نے اسے بتلا دیا ہے کہ سلطنت بھی اُسی کو ملنے والی ہے۔چنانچہ اس نے اپنی متعدد تصانیف میں یہ الہام و کشف سنایا ہے کہ خدا نے اُسے بتلا دیا ہے کہ بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔بلکہ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ بادشاہ اسے دکھائے بھی گئے ہیں۔اور یہ بھی کہتا ہے کہ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ بادشاہت مرزائیوں کی جماعت کو کسی زمانہ میں ملے گی۔اب خیال فرمائیے کہ یہ خیال کہاں تک خوفناک خیال ہے۔جبکہ مرزاجی نے یہ الہام ظاہر کر کے پیشگوئی کر دی ہے کہ بادشاہ اس کے حلقہ بگوش ہوں گے اور بادشاہت مرزائیوں کو ملے گی۔کیا عجب کہ ایک زمانہ میں مرزائیوں کو جو اس کی پیشگوئیاں پورا کرنے کے لئے اپنی جانیں دینے کو تیار ہیں۔۔۔۔یہ جوش آجائے کہ اس پیشگوئی کو پورا کیا جائے اور وہ کوئی فتنہ و بغاوت برپا کریں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزاجی نے مسلمانوں کو نصاریٰ سے سخت بد ظن اور مشتعل کر رکھا ہے کہ وہ دجال سمجھتے ہیں تو نصاریٰ کو۔خر دجال کہتے ہیں تو ریلوے کو۔اب سوال یہ ہے کہ ریلوے کس نے جاری کر رکھی ہے۔جب یہ خر دجال ہے تو اس کے چلانے والے بادشاہ وقت کو ہی یہ دجال کہتے ہیں۔اور