مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 170
170 سترھویں فصل کانگرس کے پلیٹ فارم پر مجلس احرار کا قیام جب مکمل آزادی کے نعرہ کی پذیرائی کے لیے ماحول تیار ہو چکا تو دسمبر 1929ء میں پنڈت جواہر لعل نہروہی کی صدارت میں آل انڈیا نیشنل کانگرس کا اجلاس لاہور منعقد ہوا جس میں کانگرس نے مکمل آزادی کی قرار داد منظور کی اور ساتھ ہی مسلمانوں میں نہرو کے سوشلسٹ خیالات کے پھیلانے، کانگرسی پروگرام کو کامیاب بنانے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جماعت احمدیہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کانگرس ہی کے پلیٹ فارم پر ڈرامائی انداز میں ایک سیاسی پارٹی کی بنیادرکھی گئی جس کا نام ابوالکلام آزاد صاحب کی تجویز پر ”احرار اسلام “ رکھا گیا چنانچہ ”رئیس الاحرار “مولوی حبیب الرحمن صاحب کی سوانح میں صاف لکھا ہے۔”1929ء کے کانگرس کے اجلاس میں 29 دسمبر 1929ء کو مولانا آزاد کے مشورہ پر آل انڈیا کانگرس کے اسٹیج پر چودھری فضل حق کی صدارت میں مجلس احرار کا پہلا جلسہ ہوا۔مجلس مشاورت میں مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، مولانا سید داؤد غزنوی اور مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مظہر علی صاحب اظہر ، خواجہ عبد الرحمن غازی نے مشورہ کر کے مولانا آزاد کے تجویز کردہ نام کے مطابق۔مجلس احرار اسلام ہند قائم کی اور مولاناسید عطاء اللہ بخاری مجلس احرار کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔کانگرس کی طرف سے عام سول نافرمانی کا آغاز ہو گیا تھا۔اس لئے سب احرار تنظیم کو چھوڑ کر کانگرسی تحریک میں شامل ہو گئے۔“1 مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب کا بیان ہے: مجلس احرار کا سب سے پہلا جلسہ 29 دسمبر 1929ء کانگرس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوا جس میں سید عطاء اللہ شاہ نے میری صدارت میں تقریر کی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ مسلمان نوجوان ہندوستان کی آزادی کا ہر اول ثابت ہوں۔آزادی کے حصول کا فخر ہمارے حصے میں آئے۔اس کے تھوڑے عرصے کے بعد سول نافرمانی کا آغاز ہوا اور کانگرس کے جھنڈے تلے سب نے مل کر قربانیاں پیش کیں۔۔۔۔کانگرس کی اس سول نافرمانی میں احرار کے موجودہ کارکن روح رواں تھے۔“2